...

وسیم اختر کا سندھ حکومت پر تنقید، کراچی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما وسیم اختر نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کی 18 سالہ حکمرانی کے دوران کراچی تباہی سے دوچار ہوا۔

متحدہ لائرز فورم کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وسیم اختر نے کہا کہ سندھ میں حکومتی کارکردگی اور اداروں کی صورتحال پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق متعلقہ حکام کو ان معاملات کا فوری نوٹس لینا چاہیے تھا۔

شاہ عبداللطیف یونیورسٹی میں مبینہ جعلی ڈگریوں کا معاملہ

وسیم اختر نے دعویٰ کیا کہ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق 1184 وکلا کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مبینہ جعلی ڈگریوں کے حامل افراد عدالتوں میں پیش ہوتے رہے اور بار کونسل کے انتخابات میں ووٹ بھی ڈالتے رہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔ ان کے مطابق سندھ حکومت، وزیر قانون، یونیورسٹی انتظامیہ اور متعلقہ بار کونسلز کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

وسیم اختر نے کہا کہ وکلا پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پیشہ ورانہ معیار اور میرٹ کے تحفظ کے لیے ایسے معاملات کی نشاندہی کریں۔

جامعہ کراچی کی لا فیکلٹی پر بھی سوالات

ایم کیو ایم رہنما نے جامعہ کراچی کی فیکلٹی آف لا میں ڈین کی تقرری پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ سندھ کے حکم پر ایک جونیئر وکیل کو ڈین مقرر کیا گیا، جس کے پاس ان کے بقول ایم فل کی ڈگری بھی نہیں ہے۔

وسیم اختر نے کہا کہ قانون کے تعلیمی اداروں کو سیاسی مداخلت، تعصب اور لسانیت سے پاک رکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق قابل اور پیشہ ور وکلا اداروں کا اثاثہ ہیں، اس لیے تقرریوں اور رجسٹریشن میں میرٹ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے سپریم کورٹ، سندھ بار کونسل اور دیگر متعلقہ اداروں سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔

جعلی ڈومیسائل اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر تنقید

وسیم اختر نے سندھ کے تعلیمی نظام، ریونیو ڈپارٹمنٹ اور دیگر سرکاری اداروں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جعلی ڈومیسائل اور میرٹ کی خلاف ورزیوں سے اہل افراد کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاؤ یونیورسٹی کے 27 ملازمین کی ڈگریاں بھی جعلی ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔ ان کے مطابق ان ملازمین کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں۔

وسیم اختر نے کہا کہ سندھ حکومت کو ایسے معاملات کی شفاف تحقیقات کرانی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں بدانتظامی اور مبینہ بے ضابطگیوں کا خاتمہ ضروری ہے۔

کراچی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ

وسیم اختر نے کہا کہ کراچی کی آبادی بڑھ رہی ہے اور موجودہ انتظامی نظام کے تحت شہر کی مؤثر گورننس مشکل ہوچکی ہے۔ انہوں نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو ضروری قرار دیا۔

ان کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان مختلف علاقوں میں جاکر اس مطالبے کے حق میں آگاہی دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت سندھ کو تقسیم کرنے کی بات نہیں کررہی بلکہ انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کرتی ہے۔

وسیم اختر نے کہا کہ سندھ حکومت پورے صوبے کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔

وفاقی سیاست اور آئندہ لائحہ عمل

وسیم اختر نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی عمران خان سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کی حمایت کا مقصد کراچی کے مسائل حل کرانا تھا، لیکن وعدے پورے نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان نے مل کر ووٹ دیا، مگر ایم کیو ایم کو مطلوبہ تعاون نہیں ملا۔ ان کے مطابق آئندہ جماعت اپنے فیصلے سوچ سمجھ کر کرے گی۔

وسیم اختر نے اعلان کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان اس پریس کانفرنس کے بعد دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرے گی۔ ان کے مطابق کوشش ہوگی کہ کراچی اور سندھ کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنایا جائے۔

انہوں نے کراچی کی تباہی کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو ٹھہرانے کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت نے ماضی میں بھرتیاں میرٹ پر کیں اور پیپلز پارٹی کے الزامات محض بہانے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.