کراچی (اسٹاف رپورٹر) تھانہ اورنگی ٹاؤن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے معطل اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے خلاف بھتہ خوری اور دھمکیوں کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمہ ایف آئی آر نمبر/852/26 مورخہ 16 اکتوبر 2026 بوقت 18:00 بجے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 384، 385 اور 34 کے تحت درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کی تفصیل اور شکایت کنندہ
ایف آئی آر کے مطابق مدعی اور شکایت کنندہ محمد ندیم ظفر ولد ظفر خان سکنہ مکان نمبر 74، 12D، اورنگی ٹاؤن کراچی ہیں۔ مدعی نے پولیس کو بیان دیا کہ مورخہ 15 اکتوبر 2026 کو ملزمان ان کے گھر آئے۔
ایف آئی آر میں تین ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ جن میں (1) ریاض حسین عرف ملا ولد محمد حسین (معطل اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایس بی سی اے)، (2) عبد الواحد عرف طارق اور (3) منظور شامل ہیں۔ ایف آئی آر میں گاڑی نمبر N-7041/1110 اور موٹر سائیکل نمبر CBX-4944 کا بھی ذکر ہے۔
مدعی کا الزام ہے کہ ملزمان نے ایس بی سی اے کا نام استعمال کرتے ہوئے ان کے گھر کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کرنے کی دھمکی دی اور 5 لاکھ روپے وصول کر لیے جبکہ مزید 15 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمے کی تفتیش سب انسپکٹر کے سپرد کر کے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ رکن سندھ اسمبلی نصیر احمد نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ریفرنس نمبر 1: ڈپٹی کمشنر ویسٹ کا خط
اس واقعے سے قبل ضلعی انتظامیہ بھی اس افسر کے خلاف شکایت کر چکی ہے۔
حکومت سندھ، دفتر ڈپٹی کمشنر ویسٹ کراچی کے خط نمبر DC(W)/K/672/2026 مورخہ 13 اپریل 2026 کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے کو باضابطہ مراسلہ ارسال کیا تھا۔
یہ مراسلہ احمد فلنگ اسٹیشن، پلاٹ نمبر 274-A اور 276، شیٹ نمبر IV، سیکٹر 11 ½، پاکستان بازار، اورنگی ٹاؤن شپ کے مالک سید رؤف خان ولد امیر خان کی شکایت پر لکھا گیا تھا۔
خط میں کہا گیا تھا کہ تمام قانونی این او سیز موجود ہونے کے باوجود ایس بی سی اے این او سی کے نام پر بلیک میلنگ اور رشوت طلب کی جا رہی ہے اور غیر قانونی تجاوزات آپریشن کی دھمکی دے کر ہراساں کیا جا رہا ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے اپنے خط میں یہ بھی تحریر کیا کہ مذکورہ افسر کے خلاف اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ میں بھی اسی نوعیت کی انکوائریاں ہوئی ہیں جو بغیر کسی کارروائی کے بند کر دی گئیں۔ ڈپٹی کمشنر نے استدعا کی تھی کہ عوام کو بھاری مالی نقصان سے بچانے کے لیے مذکورہ افسر کو ڈسٹرکٹ ویسٹ سے فوری طور پر ہٹایا جائے۔ اسسٹنٹ کمشنر اورنگی کو بھی موقع پر جا کر انکوائری کی ہدایت کی گئی تھی۔
ریفرنس نمبر 2: آباد کا خط
اس سے قبل ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز آف پاکستان (آباد) بھی اس افسر کے خلاف وزیر اعلیٰ سندھ کو شکایت کر چکی ہے۔
آباد کے خط نمبر ABAD/2025/EM-4874 مورخہ 4 دسمبر 2025 کے مطابق چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو خط ارسال کیا تھا جس کا عنوان تھا: ڈپٹی ڈائریکٹر ایس بی سی اے مسٹر ریاض ملا کی جانب سے بلیک میلنگ، غیر قانونی مطالبات اور ہراساں کرنا۔
خط میں کہا گیا تھا کہ مختلف بلڈرز کی جانب سے تحریری شکایات موصول ہوئی ہیں اور اگر ایس بی سی اے میں اس طرح کے افسران تعینات رہیں گے تو قانونی کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ آباد نے الزام عائد کیا تھا کہ مذکورہ افسر ممبران کے ساتھ نازیبا زبان استعمال کر رہا ہے اور ذاتی مفادات کے لیے ہراساں کر رہا ہے۔ آباد نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا تھا کہ اس افسر کے خلاف غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے اور رپورٹ آنے تک اسے معطل کیا جائے تاکہ وہ انکوائری پر اثرانداز نہ ہو سکے۔
