نبی بخش تھانے کی حدود میں 29 افراد کی حبس بے جا کا معاملہ، مجسٹریٹ کی رپورٹ جمع

کراچی: نبی بخش تھانے کی حدود میں ایک خاتون سمیت 29 افراد کو مبینہ طور پر حبس بے جا میں رکھنے کے معاملے پر جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم اختر نے رپورٹ سیشن عدالت میں جمع کرادی۔

رپورٹ کے مطابق 3 اکتوبر کو ایک شہری شیر زمان کی بازیابی کی درخواست پر پلاٹ پر چھاپہ مارا گیا۔

چھاپے کے دوران شیر زمان سمیت 29 افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ بازیاب افراد میں ایک خاتون بھی شامل تھیں۔

خاتون کو مردوں کے ساتھ رکھنے کا انکشاف

رپورٹ کے مطابق خاتون کو مردوں کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ موقع پر کوئی لیڈی پولیس اہلکار موجود نہیں تھی۔

مجسٹریٹ کے مطابق جس مقام سے افراد کو بازیاب کرایا گیا، وہ پولیس کی ملکیت نہیں تھا۔ یہ جگہ سول ڈیفنس اتھارٹی کی ملکیت ہے اور گارڈن پولیس ہیڈکوارٹر کے سامنے واقع ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ موقع پر ہیڈ کانسٹیبل فیصل شاہ، کانسٹیبل جہانزیب سمیت 4 پولیس اہلکار موجود تھے۔ ایک پولیس وین اور موبائل بھی وہاں موجود تھی۔

قانونی دستاویزات پیش نہ کیے جاسکے

رپورٹ کے مطابق سی آئی اے، ایس آئی یو اور اے وی سی سی سے مسلسل پوچھنے کے باوجود کوئی قانونی دستاویز پیش نہیں کی گئی۔

بعد ازاں 15 پر کال کرکے نبی بخش تھانے کو اطلاع دی گئی۔ تمام افراد کو قانونی کارروائی کے لیے تھانے منتقل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق تمام افراد کو ذاتی مچلکوں پر رہا کردیا گیا۔ انہیں سیشن عدالت کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت بھی کی گئی۔

نارتھ ناظم آباد میں 48 انچ بلک لائن سے نجی پروجیکٹ کو کنکشن دینے کا انکشاف

سول ڈیفنس کمپاؤنڈ سے بازیابی

پس منظر کے مطابق 3 اکتوبر کو گارڈن ہیڈکوارٹرز کے قریب سول ڈیفنس دفتر پر مجسٹریٹ نے شکایت کی بنیاد پر چھاپہ مارا تھا۔

کارروائی کے دوران متعدد افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ تمام تفصیلات نبی بخش تھانے کے روزنامچے میں درج کی گئیں۔

بازیاب افراد میں ارسلان، عمران، عبداللہ، غلام حسین، آصف، رفیع اللہ، محمد عالم، بچی خان، سلمان خان، عامر خان، دلدار، احسان، محمد شہباز، عطا اللہ، فیصل، شیر زمان، میر محمد، شہباز، امام بخش، سلطان، ارمان اور مسز سمیرہ سمیت دیگر شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق بازیاب افراد نے دوران حراست مبینہ پولیس بدسلوکی کی شکایات بھی کیں۔

ابتدائی معلومات کے مطابق بعض افراد کو مختلف مقامات سے حراست میں لینے کے بعد سول ڈیفنس کمپاؤنڈ منتقل کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق افراد کی گرفتاری یا انٹری کا مکمل ریکارڈ موجود نہ ہونے پر معاملہ مزید مشکوک ہوگیا۔

بعض ذرائع نے دعویٰ کیا کہ افراد کو ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں باندھ کر رکھا گیا تھا۔ واحد خاتون نے خود کو کینسر کی مریضہ بھی بتایا تھا۔

واقعے سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔

One thought on “نبی بخش تھانے کی حدود میں 29 افراد کی حبس بے جا کا معاملہ، مجسٹریٹ کی رپورٹ جمع”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!