خواجہ آصف کے پی ٹی آئی سے 8 سوالات، دہشتگردی پالیسی پر جواب طلب

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف سے دہشتگردی کے خلاف پالیسی سے متعلق 8 سوالات کے جواب مانگ لیے۔

خواجہ آصف نے ایکس پر جاری بیان میں پی ٹی آئی کے اس مؤقف پر سوال اٹھایا کہ اسے دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا سوال

خواجہ آصف نے سوال کیا کہ خیبرپختونخوا میں طویل عرصے تک پی ٹی آئی کی حکومت رہی۔ وفاق میں بھی پارٹی اقتدار میں رہی۔

انہوں نے پوچھا کہ دہشتگردی کے خلاف پالیسی بنانے، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد اور ایپکس کمیٹی کے اجلاس بلانے سے کس نے روکا۔

انہوں نے مزید سوال کیا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں اور افغانستان سے آنے والے دہشتگردوں کی مذمت کے لیے کسی خاص پالیسی کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔

افغانستان سے متعلق سوالات

وزیر دفاع نے حالیہ مبینہ ڈرون حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے پوچھا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے ان کی کھل کر مذمت کیوں نہیں کی۔

انہوں نے افغان سرزمین سے مبینہ سرحدی خلاف ورزیوں، فائرنگ اور دراندازی پر بھی پی ٹی آئی سے سوال کیا۔

خواجہ آصف نے پوچھا کہ ان خلاف ورزیوں پر افغان حکام کے سامنے کتنی مرتبہ احتجاج یا مذمت کی گئی۔

فلائی دبئی معاون پائلٹ پر اسرائیل جانے والی پرواز میں حملے کی منصوبہ بندی کا الزام

غیرقانونی معیشت پر بھی سوال

خواجہ آصف نے بھتہ خوری، اسمگلنگ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے کاروبار کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے سوال کیا کہ گزشتہ برسوں کے دوران خیبرپختونخوا میں ان سرگرمیوں کے خلاف کیا عملی اقدامات کیے گئے۔

انہوں نے سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردی سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی سے متعلق بھی پی ٹی آئی قیادت سے سوال کیا۔

دہشتگردی کے بیانیے پر اعتراض

وزیر دفاع نے پی ٹی آئی سے ریاستی مؤقف کے بارے میں بھی سوال کیا۔

انہوں نے پوچھا کہ دہشتگرد تنظیموں کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنے میں کیا رکاوٹ ہے۔

اپنے آٹھویں سوال میں خواجہ آصف نے خیبرپختونخوا میں مبینہ کرپشن اور صوبائی وسائل کے استعمال پر بھی الزامات عائد کیے۔ یہ الزامات وزیر دفاع کے بیان کا حصہ ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔

One thought on “خواجہ آصف کے پی ٹی آئی سے 8 سوالات، دہشتگردی پالیسی پر جواب طلب”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!