موغادیشو: صومالیہ میں ہائی جیک کیے گئے بحری جہاز آنر 25 پر موجود قزاقوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 3 پاکستانیوں سمیت 5 کریو ممبرز جاں بحق ہوگئے۔
سیکنڈ انجینئر حسین یوسف کے مطابق کارروائی میں 4 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک فلاحی ادارے کی چیئرپرسن سے گفتگو میں واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔
حسین یوسف کے مطابق جاں بحق پاکستانیوں میں سیکنڈ آفیسر کاشف عمر، تھرڈ انجینئر محمود انصاری اور آئلر رفیع اللہ خان شامل ہیں۔
ان کے مطابق کارروائی میں بھارتی کریو ممبر تنویر اور میانمار کے چیف انجینئر بھی جاں بحق ہوئے۔
چار کریو ممبرز زخمی
سیکنڈ انجینئر حسین یوسف کے مطابق کارروائی کے دوران فورتھ انجینئر عثمان، عقیل، امین اور ایک انڈونیشین کریو ممبر زخمی ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ زخمی افراد کی حالت خراب ہے اور انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔
حسین یوسف نے اپیل کی کہ زخمی کریو ممبرز کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر ہیلی کاپٹر بھیجے جائیں۔
جہاز کا اسٹیئرنگ خراب
حسین یوسف کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران بحری جہاز کا اسٹیئرنگ بھی خراب ہوگیا۔
ان کے مطابق جہاز کو ایک دوسرے بحری جہاز کے ساتھ باندھ کر بوساسو کی جانب لے جایا جارہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جہاز کو بندرگاہ تک پہنچنے میں تقریباً تین دن لگ سکتے ہیں۔
آنر 25 21 اپریل کو ہائی جیک ہوا تھا
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق آنر 25 کو 21 اپریل 2026 کو صومالیہ کے جنوب مشرقی ساحل کے قریب قزاقوں نے ہائی جیک کیا تھا۔ اس وقت جہاز پر 17 رکنی عملہ موجود تھا، جن میں 10 پاکستانی شہری شامل تھے۔
بعد ازاں پاکستانی حکام نے صومالی حکام سے رابطہ کرکے جہاز اور عملے کی صورتحال سے متعلق معلومات حاصل کی تھیں۔