کراچی: سندھ کرسچن فیملی لاز بل 2026 پر تیسری مشاورتی نشست سندھ ہائی کورٹ کراچی کے کنسلٹیشن روم میں منعقد ہوئی۔
نشست میں قانونی ماہرین، ارکان سندھ اسمبلی اور کرسچن لائرز فورم سندھ کے نمائندگان نے شرکت کی۔
شرکا نے مسیحی خاندانوں سے متعلق مجوزہ قانون کے مختلف قانونی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
قانونی ماہرین اور ارکان اسمبلی کی شرکت
رکن سندھ اسمبلی اور پارلیمانی سیکریٹری برائے اقلیتی امور روما مشتاق مٹو اور رکن سندھ اسمبلی فاروق اعوان نے بھی نشست میں شرکت کی۔
دونوں ارکان نے مسیحی خاندانی قوانین سے متعلق قانونی ضروریات اور مجوزہ قانون پر جاری مشاورتی عمل کے حوالے سے اپنی آرا پیش کیں۔
کرسچن لائرز فورم سندھ کی جانب سے جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ذیشان اعجاز، ایڈووکیٹ سلیم مائیکل، ایڈووکیٹ بارنر نیوٹن اور ایڈووکیٹ کرسٹوفر چارلس شریک ہوئے۔
فورم کے نمائندگان نے مجوزہ سندھ کرسچن فیملی لاز بل 2026 کے مختلف قانونی پہلوؤں پر تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔
جامع قانونی فریم ورک کی تیاری پر مشاورت
مشاورتی نشست کا مقصد مجوزہ قانون کے اہم قانونی نکات کا جائزہ لینا تھا۔
اس دوران قانونی ماہرین کی آرا حاصل کرنے اور جامع قانونی فریم ورک کے لیے سفارشات مرتب کرنے پر بھی غور کیا گیا۔
روما مشتاق مٹو نے کہا کہ مسیحی برادری سے متعلق قانون سازی میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور قانونی ماہرین کی رائے کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بامعنی مشاورت قانون سازی کو زمینی حقائق سے ہم آہنگ بنانے میں مدد دیتی ہے۔
روما مشتاق مٹو کے مطابق اقلیتی امور سے متعلق قانون سازی میں تمام متعلقہ حلقوں کی مؤثر شمولیت مثبت اور تعمیری عمل ہے۔
مشاورتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق
رکن سندھ اسمبلی فاروق اعوان نے کہا کہ قانون سازی میں متعلقہ فریقین، قانونی ماہرین اور نمائندہ اداروں سے مشاورت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجوزہ قانون کے مختلف پہلوؤں پر جامع غوروفکر قانون سازی کے عمل کو مزید مربوط بنا سکتا ہے۔
فاروق اعوان نے مزید کہا کہ مسیحی خاندانوں سے متعلق قانونی امور کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مشاورتی عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔
کرسچن لائرز فورم سندھ کے نمائندگان نے بھی مزید قانونی اور فنی غوروفکر کی ضرورت پر زور دیا۔
نشست میں قانونی ماہرین کی تجاویز اور سفارشات کو آئندہ مشاورتی عمل میں شامل کرنے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
واضح رہے کہ کرسچن لائرز فورم سندھ نے روما مشتاق مٹو کو تیسری مشاورتی نشست میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی تھی۔
فورم کے مطابق دعوت کا مقصد مجوزہ قانون پر جاری مشاورتی عمل میں ان کی قانونی اور پارلیمانی بصیرت سے استفادہ کرنا تھا۔