کراچی: وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے جناح اسپتال کراچی میں ریبیز سے متعلق آگاہی ورکشاپ میں شرکت کی۔
ورکشاپ میں پروفیسر ڈاکٹر امجد سراج میمن، پروفیسر ڈاکٹر خالد احمد شیر اور سیکریٹری صحت ڈاکٹر طاہر سانگی بھی شریک ہوئے۔
ڈاکٹر سلیمان، ڈاکٹر عرفان سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی ورکشاپ میں شرکت کی۔
ریبیز سے بچاؤ کے لیے آگاہی پر زور
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ریبیز ایک سنگین اور جان لیوا بیماری ہے۔ اس سے متعلق عوامی آگاہی انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بروقت احتیاطی تدابیر سے ریبیز سے بچاؤ ممکن ہے۔
صوبائی وزیر کے مطابق سندھ حکومت ریبیز کی روک تھام کے لیے کتوں کی نس بندی کا پروگرام بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ریبیز کے کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ بچوں اور شہریوں کی جانیں قیمتی ہیں۔ ریبیز سے بچاؤ کے طریقوں سے متعلق آگاہی بڑھانا ضروری ہے۔
انہوں نے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی خدمات کو بھی سراہا۔
ریبیز سینٹرز کے فنڈز کا مسئلہ حل
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر صوبے بھر میں ریبیز سینٹرز کے فنڈز کا مسئلہ حل کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریبیز سے متاثرہ افراد کو بروقت طبی سہولتوں کی فراہمی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
سیاسی امور پر بھی گفتگو
ورکشاپ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ نے پی ٹی آئی کو اپنی سیاسی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ مسائل کے حل کے لیے احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
سید ناصر حسین شاہ نے دہشت گردی کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا اور کہا کہ دہشت گرد کسی قسم کی نرمی کے قابل نہیں۔
ورکشاپ کے اختتام پر سید ناصر حسین شاہ کو روایتی اجرک پہنائی گئی اور اعزازی شیلڈ پیش کی گئی۔