امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کیے تو تہران ان کے ذریعے عالمی سطح پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
روبیو نے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گفتگو کی۔ فوکس نیوز کے مطابق روبیو نے جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کو عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔
آبنائے ہرمز اور عالمی توانائی کی رسد
روبیو نے آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم راستہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اس آبی گزرگاہ پر کسی ایک فریق کا کنٹرول عالمی توانائی کی فراہمی کو متاثر کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے کھلا رکھنے پر توجہ دے رہا ہے۔ روبیو کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام امریکی پالیسی میں مرکزی معاملہ ہے۔
حالیہ ہفتوں میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل بھی تنازع کا اہم حصہ بنی ہوئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ستمبر میں آبنائے سے تیل کی برآمدات میں اضافہ ہوا، تاہم یہ بہاؤ تنازع سے پہلے کی سطح سے کم رہا۔
ورلڈکپ 2027: آئی سی سی یکم اکتوبر کو شیڈول جاری کرے گا
ایران پر امریکی الزامات
روبیو نے ایران کی قیادت پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تہران اپنی معاشی سرگرمیوں اور وسائل کو عوامی ضروریات کے بجائے فوجی صلاحیتوں اور خطے میں اتحادی گروہوں کی حمایت کے لیے استعمال کرتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے حزب اللہ، حماس اور عراق میں بعض مسلح گروہوں کی حمایت کے الزامات بھی عائد کیے۔ یہ امریکی حکومت کا مؤقف ہے، جبکہ ایران ان نوعیت کے امریکی الزامات اور اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں واشنگٹن کے مؤقف کو مسترد کرتا رہا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ تہران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے مذاکرات اور جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔
امریکا ایران مذاکرات
امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے ساتھ جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز اہم سفارتی معاملات بنے ہوئے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق دونوں ممالک نے حالیہ دنوں میں ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کی کوششیں دوبارہ شروع کی ہیں۔ بات چیت میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت مختلف معاملات زیر بحث ہیں۔