کراچی: جامعہ کراچی میں تعلیمی سال 2027 کے داخلوں کے موقع پر اسکول آف لاء کی داخلہ پالیسی متنازع ہوگئی ہے۔
ڈین آف لاء کے مطابق الحاق شدہ کالجوں کے طلبہ کو جامعہ کراچی منتقل کرنے کی پالیسی کی منظوری دی جاچکی ہے۔
یہ منظوری بورڈ آف اسٹڈیز اور بورڈ آف فیکلٹی کے اجلاس میں دی گئی۔ معاملہ حتمی منظوری کے لیے رجسٹرار کو بھیج دیا گیا ہے۔
دوسری جانب جامعہ کراچی میں برسوں سے رائج ’کے‘ یا کراچی کیٹگری ختم کرنے کے اعلان پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
’کے‘ کیٹگری ختم کرنے کا دعویٰ
رئیس کلیہ قانون بیرسٹر سرفراز میتلو نے ’کے‘ کیٹگری ختم کرنے کی سوشل میڈیا پوسٹ کی تصدیق کی۔
ان کا کہنا تھا کہ جامعہ کراچی کی اکیڈمک کونسل نے ’کے‘ کیٹگری ختم کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے نئے تعلیمی سیشن کے پراسپیکٹس میں وضاحت موجود ہے۔
ان کے مطابق کیٹگری کوئی قانون نہیں بلکہ داخلوں کے لیے ایک رہنما اصول تھا۔
تاہم رپورٹ کے مطابق اکیڈمک کونسل کے ایجنڈے میں اس معاملے کی باقاعدہ منظوری سامنے نہیں آئی۔
پراسپیکٹس کے صفحہ 157 پر کیٹگری کے بجائے فیصد سے متعلق وضاحت درج ہے۔
اس میں کہا گیا ہے کہ دی گئی فیصد صرف رہنمائی کے لیے ہیں اور داخلہ 2027 پر لاگو نہیں ہوں گی۔
نیتن یاہو کا خفیہ دورہ ابوظہبی میں اماراتی صدر سے ملاقات
طلبہ کی منتقلی کی پالیسی بھی زیر بحث
16 ستمبر کو اسکول آف لاء کے بورڈ آف اسٹڈیز اور بورڈ آف فیکلٹی کا اجلاس ہوا۔
اجلاس کی روداد اکیڈمک کونسل کی منظوری کے لیے رجسٹرار جامعہ کراچی ڈاکٹر عمران احمد کو بھیجی گئی ہے۔
روداد کے آئٹم نمبر 2 میں طلبہ کی منتقلی سے متعلق پالیسی کا ذکر ہے۔
اس کے مطابق شہر کے اندر ایک جامعہ سے دوسری جامعہ اور کالج سے یونیورسٹی منتقلی کی اجازت دی جاسکتی ہے۔
الحاق شدہ کالج سے دوسرے کالج میں منتقلی بھی اس پالیسی میں شامل ہے۔
تاہم روداد میں اس عمل کے لیے میرٹ کا واضح طریقہ کار درج نہیں کیا گیا۔
اساتذہ کی تنظیم کا مؤقف
انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر پروفیسر غفران عالم نے پالیسی پر سوال اٹھائے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ایسی پالیسی کی منظوری متعلقہ اسٹیچیوٹری باڈی سے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی پالیسی اسٹیچیوٹری باڈی سے منظور نہیں ہوئی۔
ان کے مطابق منظوری کے بغیر اس نوعیت کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔
ڈین آف لاء کا مؤقف
ڈین آف لاء نے اجلاس کی روداد کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر سے باہر کے طلبہ کے لیے منتقلی کی پالیسی موجود ہے۔
ان کے مطابق اگر باہر سے منتقلی ممکن ہے تو شہر کے طلبہ بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
یوں ’کے‘ کیٹگری کے خاتمے اور طلبہ کی منتقلی کی پالیسی دونوں معاملات پر مزید وضاحت درکار ہے۔