بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں میں 19 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔
شعبان میں کلیئرنس آپریشن
آئی ایس پی آر کے مطابق انٹیلی جنس اداروں کو شعبان میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔ یہ علاقہ ضلع کوئٹہ میں واقع ہے۔
اطلاع کے مطابق وہاں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سے وابستہ عناصر موجود تھے۔ ان کی سرگرمیاں مقامی آبادی کے لیے خطرہ بن رہی تھیں۔
سیکیورٹی فورسز نے 21 ستمبر سے شعبان میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔ کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں 13 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ کلیئر کیے گئے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔
کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں کارروائیاں
22 اور 23 ستمبر کو ضلع کیچ اور کوئٹہ ویسٹ میں بھی کارروائیاں کی گئیں۔ سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر یہ آپریشن کیے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں مزید 6 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔ کارروائیوں کے دوران اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
صوبیدار محمد جمیل شہید
آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں صوبیدار محمد جمیل بھی شہید ہوئے۔ شہید صوبیدار کی عمر 39 سال تھی۔
صوبیدار محمد جمیل کا تعلق ضلع ڈیرہ غازی خان کے علاقے تونسہ شریف سے تھا۔
انسداد دہشتگردی مہم جاری رکھنے کا عزم
آئی ایس پی آر نے کہا کہ عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم جاری رہے گی۔ یہ مہم نیشنل ایکشن پلان پر وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری کے تحت جاری ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ غیرملکی سرپرستی اور معاونت سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔