کراچی میں فاطمینہ اسپتال کی انتظامیہ کا مؤقف لینے پہنچنے والی تشکّر نیوز کی ٹیم کو مبینہ بدتمیزی کا سامنا کرنا پڑا۔
تشکّر نیوز کے مطابق اسپتال کے سیکیورٹی گارڈ نے ٹیم سے نازیبا الفاظ استعمال کیے۔
ٹیم کا کہنا ہے کہ گارڈ نے صحافتی ذمہ داریاں ادا کرنے میں رکاوٹ ڈالی۔
صحافتی ٹیم 26 سالہ شاہ زیب اشرف کے انتقال کے معاملے پر مؤقف لینے اسپتال پہنچی تھی۔
صحافتی ٹیم کا مؤقف
تشکّر نیوز کی ٹیم کے مطابق خبر نشر کرنے سے پہلے متعلقہ ادارے کا مؤقف لینا ضروری ہے۔
ٹیم کا کہنا ہے کہ اسی مقصد کے لیے اسپتال سے رابطہ کیا گیا تھا۔
تاہم گارڈ نے مبینہ طور پر نامناسب رویہ اختیار کیا۔
تشکّر نیوز نے سندھ حکومت اور محکمہ صحت سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ادارے نے ذمہ دار سیکیورٹی اہلکار کے خلاف کارروائی کی بھی درخواست کی ہے۔
شاہ زیب اشرف کے انتقال کا معاملہ
26 سالہ شاہ زیب اشرف کے انتقال پر اہل خانہ نے اسپتال کے عملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ورثاء کا دعویٰ ہے کہ شاہ زیب کو صحت کی حالت میں اسپتال لایا گیا تھا۔
ان کے مطابق علاج کے دوران مبینہ طور پر غلط انجکشن لگایا گیا۔
اہل خانہ نے طبی غفلت کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد شاہ زیب کی حالت بگڑ گئی۔
ورثاء کے مطابق فوری طبی امداد کے بجائے کاغذی کارروائی اور بلنگ کو ترجیح دی گئی۔
اہل خانہ نے ذمہ دار ڈاکٹر اور متعلقہ عملے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
شفاف تحقیقات کا مطالبہ
شاہ زیب اشرف کے اہل خانہ نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کے مطابق تحقیقات سے واقعے کے اصل حقائق سامنے آسکتے ہیں۔
ورثاء نے ذمہ دار افراد کے تعین کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
تشکّر نیوز نے سندھ حکومت اور محکمہ صحت سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
ادارے نے صحافتی ٹیم سے مبینہ بدسلوکی کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
فاطمینہ اسپتال انتظامیہ کا مؤقف اس خبر میں شامل نہیں ہے۔
اسپتال کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کیا جانا چاہیے۔


