سندھ حکومت نے صوبے بھر میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کا فیصلہ کیا ہے۔ کھیلوں کے میدانوں کا جامع ڈیٹا بھی تیار کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ سیکریٹری کھیل سندھ منور علی مہیسر کی زیر صدارت اجلاس میں ہوا۔ اجلاس میں محکمہ کھیل کے ڈسٹرکٹ اسپورٹس افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں کھیلوں کی سرگرمیوں، اسپورٹس تنظیموں اور کھیلوں کے میدانوں کا جائزہ لیا گیا۔
ڈائریکٹر کھیل اسد اسحاق اور ڈپٹی سیکریٹری سراج احمد بھی اجلاس میں شریک تھے۔ کراچی ڈویژن کے ڈی ایس اوز اسماعیل شاہ، فرید علی، شکیل احمد اور محمد عثمان بھی موجود تھے۔
سنی پرویز، حاجرا نواب، کائنات اور ایس او علی ڈنو گوپانگ سمیت دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔
اسپورٹس تنظیموں کی فہرست طلب کرنے کا فیصلہ
سندھ اولمپک ایسوسی ایشن سے تمام اسپورٹس سرگرمیوں کی فہرست طلب کی جائے گی۔ اسپورٹس تنظیموں کی تفصیلات بھی حاصل کی جائیں گی۔
منور علی مہیسر کے مطابق اس اقدام سے کھیلوں کا مکمل ریکارڈ تیار ہوگا۔ تنظیموں کی حیثیت کا جائزہ لینے میں بھی مدد ملے گی۔
انہوں نے افسران کو رجسٹرڈ اسپورٹس تنظیموں کے بارے میں اہم ہدایات دیں۔ ان تنظیموں کو قانونی دائرہ کار میں لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
کھیلوں کی سرگرمیوں کی مؤثر مانیٹرنگ
سیکریٹری کھیل نے تمام سرگرمیوں کی مانیٹرنگ یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ کھیلوں کی سرگرمیوں کا باقاعدہ ریکارڈ بھی تیار کیا جائے گا۔
اس ریکارڈ میں کھیلوں کے انعقاد کی تفصیلات شامل ہوں گی۔ کھلاڑیوں کی شرکت کا ڈیٹا بھی مرتب کیا جائے گا۔
اسپورٹس تنظیموں کی سرگرمیوں کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے گا۔
کھیلوں کے میدانوں کا مکمل ڈیٹا تیار ہوگا
منور علی مہیسر نے تمام ڈی ایس اوز کو اہم ہدایت جاری کی۔ افسران فعال اور غیر فعال کھیلوں کے میدانوں کا ڈیٹا جمع کریں گے۔
اسپورٹس گراؤنڈز اور دیگر کھیلوں کی سہولیات بھی ڈیٹا میں شامل ہوں گی۔
میدانوں کی موجودہ صورتحال کی تفصیلات بھی جمع کی جائیں گی۔ دستیاب سہولیات اور وہاں ہونے والے کھیلوں کی معلومات بھی حاصل کی جائیں گی۔
غیر فعال میدانوں کو دوبارہ فعال کرنے کا منصوبہ
سیکریٹری کھیل نے غیر فعال میدانوں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔ ان میدانوں کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے حکمت عملی بنائی جائے گی۔
کھیلوں کی سہولیات کو بہتر بنانے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔ اسپورٹس تنظیموں اور میدانوں کو درپیش مسائل کی تفصیلات بھی مرتب ہوں گی۔
منور علی مہیسر نے کہا کہ کھیلوں کے فروغ کے لیے وسائل مؤثر انداز میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے نظم و ضبط اور شفافیت کو بھی ترجیح قرار دیا۔ ان کے مطابق کھیلوں کی سرگرمیوں میں قانونی تقاضوں کی پابندی یقینی بنائی جائے گی۔