صوبے: سعید غنی کا محسن نقوی پر طنز، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی پر بھی تنقید

کراچی (اسٹاف رپورٹر) — صوبے بنانے کے معاملے پر سندھ کے وزیر محنت و افرادی قوت سعید غنی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر محسن نقوی یہ کہتے ہیں کہ صوبے بنیں گے یا ان کی نوکری جائے گی تو ان کے خیال میں نوکری ہی جائے گی۔

سعید غنی نے پیر کو سندھ اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں نئے صوبے کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کے دعووں اور اسمبلی میں ان کے کردار کو عوام کو خود دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کھل کر نئے صوبوں کی مخالفت کا اعلان کرتی ہیں، لیکن جب اسمبلی میں اس مؤقف کا اظہار کرنے کا وقت آیا تو ان کے ارکان ایوان سے باہر چلے گئے۔

سعید غنی کے مطابق پی ٹی آئی سڑکوں پر سندھ کی تقسیم کے خلاف نعرے لگانے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن اسمبلی میں ووٹنگ کے وقت اس کے ارکان موجود نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے رکن نے بھی ووٹنگ کے دوران ایوان سے باہر رہنے کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ اب سندھ کے عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ کون سی جماعتیں واقعی ان کے جذبات کی ترجمانی کرتی ہیں اور کون سی جماعتیں سڑکوں پر ان کے ساتھ کھڑی ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن اسمبلی میں اپنا مؤقف پیش کرنے سے گریز کرتی ہیں۔

سعید غنی نے کہا کہ نئے صوبوں کی حمایت کے حوالے سے نہ انہیں کوئی فون آیا اور نہ ہی سندھ حکومت کے کسی رکن نے ایسی اطلاع دی ہے۔

بیرونی خطرات سے متعلق وزیراعلیٰ پنجاب کے بیان پر ردعمل

وزیراعلیٰ پنجاب کے بیرونی ممالک سے خطرے کے حوالے سے بیان پر سعید غنی نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ اس بیان کے پیچھے کیا سوچ تھی، تاہم اس کا ایک خطرناک پہلو موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش اندرونی سکیورٹی مسائل میں بیرونی عناصر کا کردار بھی موجود رہا ہے، چاہے وہ افغانستان ہو یا بھارت۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کراچی سمیت مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات ہوئے ہیں، جبکہ پنجاب بھی دہشت گردی سے متاثر ہوا ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ دہشت گرد تنظیمیں ملک کے مختلف صوبوں میں موجود ہیں اور ان کے پیچھے بیرونی عناصر کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول ایسے حالات میں یہ کہنا کہ بیرون ملک سے کوئی خطرہ نہیں، ایک غیر ذمہ دارانہ بیان ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے سندھ دورے پر وضاحت

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے سندھ میں موجود ہونے سے متعلق سوال پر سعید غنی نے کہا کہ وہ گزشتہ دو سے تین روز سے صوبے میں موجود ہیں اور سڑک کے ذریعے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر سندھ حکومت کی پالیسی انہیں روکنے کی ہوتی تو انہیں صوبے میں داخل ہونے ہی نہ دیا جاتا، تاہم انہیں کہیں نہیں روکا گیا۔

کراچی میں شارع قائدین پر جلسے کے اعلان سے متعلق سعید غنی نے کہا کہ حکومت نے وہاں جلسے کی اجازت کبھی نہیں دی۔ ان کے مطابق حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ سیاسی اجتماعات کے لیے گراؤنڈ یا کھلی جگہ کا انتخاب کیا جائے تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ ممکن ہے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ شارع قائدین آنے کی کوشش کر رہے ہوں، جس کے باعث بعض راستے بند کیے گئے ہوں۔

محسن نقوی کے بیان سے متعلق ایک اور سوال پر سعید غنی نے دوبارہ کہا کہ اگر یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ صوبے بنیں گے یا ان کی نوکری جائے گی تو ان کے خیال میں نوکری ہی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!