سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ وہ نفرت کو ہوا دے کر ’لندن والے‘ کے گدی نشین بننا چاہتے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم کی نفرت اور تقسیم کی سیاست اب عوام مسترد کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق شہری اور دیہی تفریق پیدا کرنے کی کوشش کرنے والوں کو عوام پہلے بھی سیاسی طور پر مسترد کر چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چند منفی مثالوں اور ’جھوٹے دعووں‘ سے حقیقت تبدیل نہیں کی جا سکتی۔ ان کے بقول پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ نفرت کی دیواریں گرانے کی کوشش کی ہے۔
کراچی کی سیاست پر شرجیل میمن کا مؤقف
شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی سندھ کا دل اور پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے۔ ان کے مطابق کراچی کو دنیا کے سامنے دہشت سے بدنام کرنے والے اب وفاق کے خلاف بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایم کیو ایم کی سیاست طویل عرصے سے تقسیم، نفرت اور لسانی تفریق کے گرد گھومتی رہی ہے۔
سندھ کے وزیر اطلاعات نے کہا کہ عوام مخالفین کے ’جھوٹے بیانیے اور سیاسی شعبدہ بازی‘ کو سمجھ چکے ہیں۔ ان کے مطابق انتظامی فیصلوں کو لسانی رنگ دینا ناکام سیاست کو زندہ رکھنے کی کوشش ہے۔
پیپلز پارٹی اور سندھ کی تقسیم
شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کے تمام شہریوں کو بلا تفریق ترقی کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ ان کے مطابق کراچی کو تقسیم کرنے کا الزام اس جماعت پر عائد کرنا مضحکہ خیز ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سندھ کا حصہ ہے اور رہے گا۔ کوئی بھی اپنے وقتی سیاسی مفادات کے لیے عوام کو تقسیم نہیں کر سکتا۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی صوبے کے عوام کی خدمت کو اپنا مشن سمجھتی ہے۔ ان کے بقول جماعت نے نفرت کی سیاست کے بجائے امن، ترقی اور بھائی چارے کو فروغ دیا ہے۔
مصطفیٰ کمال سے سوال
شرجیل میمن نے مصطفیٰ کمال سے سوال کیا کہ لسانی تقسیم، بوری بند لاشیں، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کس کی شناخت رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ صدیوں سے مختلف زبانیں بولنے والے لوگوں کا گھر ہے۔ ان کے مطابق سیاسی مقاصد کے لیے عوام میں نفرت پیدا کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔