لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ راولپنڈی میں لیاقت باغ جلسے کی اجازت نہ ملی تو راولپنڈی اور اسلام آباد کی سڑکوں پر دھرنے دیے جائیں گے۔
چیئرنگ کراس لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب حکومت کو جماعت اسلامی کا احتجاج پسند نہیں آ رہا۔ ان کے بقول اسی وجہ سے لیاقت باغ کو تالے لگا دیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ راولپنڈی جا رہے ہیں۔ وہاں تاجروں سے ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد لیاقت باغ میں جلسہ ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمن کے مطابق انتظامیہ نے لیاقت باغ کے دروازوں پر تالے لگا رکھے ہیں۔ کارکن اندر داخل ہونے کے لیے تیار ہیں، تاہم انہیں روک دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے پرامن ہیں۔ کارکن تشدد، آگ لگانے یا سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے میں یقین نہیں رکھتے۔
حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر طاقت کے ذریعے دھرنے ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو جماعت اسلامی مزاحمت کرے گی۔ ان کے مطابق ایسے طریقے پہلے بھی آزمائے جا چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ جماعت اسلامی کو تھکا کر کارکنوں کو گھروں کو بھیج دے گی۔ تاہم ایسا نہیں ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے بتایا کہ کراچی، حیدرآباد، لاہور، کوئٹہ اور پشاور میں دھرنے جاری ہیں۔ ان کے مطابق یہ احتجاج اب عوامی تحریک کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے ابتدا میں مذاکرات کے لیے رابطہ کیا تھا۔ جماعت اسلامی نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔
عید میلاد النبی ﷺ: جنگشاہی اور کوہستان میں محافلِ میلاد اور ریلیوں کا انعقاد
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کو مذاکرات کی جلدی نہیں۔ حکومت عوامی مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو مذاکرات کے لیے آگے بڑھے۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے اس میں مبینہ کرپشن کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ محض مالی امداد سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
ان کے مطابق حکومت کو عوام کو تعلیم اور ہنر فراہم کرنا چاہیے۔ ہر تین ماہ بعد رقم دینے کے بجائے روزگار کے مستقل مواقع پیدا کرنے چاہئیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے حکومتی اخراجات کم کرنے اور سرکاری سطح پر پیٹرول کے غیر ضروری استعمال کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ جماعت اسلامی اپنے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھے گی۔