کراچی انتظامی یونٹ کی بحث کے ساتھ SBCA میں مبینہ کرپشن کے الزامات، سندھ حکومت کی توجہ کا منتظر

کراچی: کراچی کو انتظامی یونٹ بنانے کی سیاسی بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اس تجویز پر سخت ردِعمل سامنے آ رہا ہے، جبکہ سندھ حکومت کے وزراء بھی اس معاملے پر سیاسی مؤقف پیش کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) میں مبینہ کرپشن اور غیر قانونی تعمیرات سے متعلق نئے الزامات نے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ SBCA کے بعض معاملات میں اشفاق کھوکھر اور بدرالدین داؤد پوتا کے نام زیرِ بحث ہیں۔ ذرائع کے مطابق غیر قانونی تعمیرات، عمارتوں کی منظوری اور فائلوں کی کلیئرنس سمیت بعض معاملات مبینہ طور پر ایک مخصوص سسٹم کے تحت چلائے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

پیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 40 پیسے اضافہ، ڈیزل 6 روپے 72 پیسے مہنگا

ذرائع مزید دعویٰ کرتے ہیں کہ فائلوں کے مبینہ ریٹس اور غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے مختلف معاملات طے کیے جانے کے ساتھ ہفتہ وار مبینہ ریکوری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق SBCA کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر وسیم شمس کی بعض مبینہ ہدایات کو نظر انداز کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ اگر یہ دعوے درست ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ادارے کا انتظامی کنٹرول مؤثر طور پر کس کے ہاتھ میں ہے؟

بدرالدین داؤد پوتا کی ماضی میں گلشن ٹو میں تعیناتی کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے، جہاں ذرائع کے مطابق غیر قانونی تعمیرات اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق شکایات زیرِ بحث رہی ہیں۔ اسی طرح اشفاق کھوکھر کے حوالے سے بھی ماضی کی مبینہ شکایات اور نیب سے متعلق معاملات کا ذکر کیا جاتا رہا ہے۔

تاہم یہ امر اہم ہے کہ کسی بھی شخص کے خلاف الزام، شکایت یا انکوائری جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ ان الزامات کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تصدیق ضروری ہے، جبکہ حتمی فیصلہ متعلقہ قانونی فورم ہی کر سکتا ہے۔

کراچی پہلے ہی بے ہنگم تعمیرات، کمزور انفراسٹرکچر اور مخدوش عمارتوں جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے میں اگر تعمیراتی منظوریوں اور غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے کسی قسم کے مالی معاملات یا مبینہ ریکوری کا نظام موجود ہے تو اس کے اثرات براہِ راست شہریوں کی جان و مال پر پڑ سکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر SBCA کے اندر مبینہ بے ضابطگیوں کی شکایات موجود ہیں تو وزارتِ بلدیات سندھ اور متعلقہ حکام ان کا نوٹس کیوں نہیں لیتے؟

وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ SBCA کی فائلوں، تعمیراتی منظوریوں، غیر قانونی تعمیرات اور افسران کی تعیناتیوں کا شفاف اور غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، جبکہ مبینہ ہفتہ وار ریکوری کے الزامات کی بھی تحقیقات کرائی جائیں۔

اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو SBCA اور متعلقہ افسران کو واضح مؤقف سامنے لانا چاہیے، اور اگر شکایات میں حقیقت پائی جاتی ہے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔

کراچی کو انتظامی یونٹ بنانے کی سیاسی بحث اپنی جگہ، لیکن شہریوں کے لیے اصل سوال یہ بھی ہے کہ شہر میں تعمیرات قانون کے مطابق ہوں گی یا مبینہ طور پر فائلوں کے ریٹس کے مطابق؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!