ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما نے ضرورت والے علاقوں میں صوبوں کے قیام کے لیے ریفرنڈم کی تجویز دی۔ انہوں نے آئینی رکاوٹیں دور کرنے پر بھی زور دیا۔
اسلام آباد میں نئے صوبے بنانے کے معاملے پر فاروق ستار نے بڑے صوبوں کے نظام پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے صوبے پاکستان کو ترقی اور استحکام نہیں دے سکتے۔
میڈیا سے گفتگو میں فاروق ستار نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد سے ملک میں اسٹیٹس کو برقرار ہے۔ ان کے مطابق سیاسی جمود بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیصلہ ساز اداروں میں بھی نئے صوبوں کے قیام پر بات ہورہی ہے۔
فاروق ستار نے تجویز دی کہ ضرورت والے علاقوں میں ریفرنڈم کرایا جائے۔ عوام کی رائے کو اس عمل کا حصہ بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 239 میں دو تہائی اکثریت سے ترمیم ہوسکتی ہے۔ اگر کوئی آئینی شق رکاوٹ ہے تو اسے دور کیا جائے۔
رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان چار صوبوں کی اجارہ داری سے نہیں چل سکتا۔ ان کے مطابق ملک کو زیادہ صوبوں کی ضرورت ہے۔
فاروق ستار اس سے قبل بھی نئے صوبوں کی حمایت کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو شراکتی نظام کی ضرورت ہے۔