اقلیتی حقوق: سہولت ڈیسک پر 3,642 کیسز، 269 پولیس اہلکاروں کو تربیت

کراچی میں اقلیتی حقوق سے متعلق پارلیمانی ورکنگ گروپ کے اجلاس کو بتایا گیا کہ حیدرآباد رینج کے نو اضلاع میں جولائی 2025 سے جون 2026 تک اقلیتی سہولت ڈیسک پر 3,642 کیسز رجسٹرڈ ہوئے، جبکہ 269 پولیس اہلکاروں کو اقلیتی حقوق اور متعلقہ قوانین پر تربیت دی گئی۔

صوبائی اسمبلی میں وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے محکمہ بحالی اور پارلیمانی ورکنگ گروپ کے کنوینر گیانچند ایسرانی کی زیر صدارت اجلاس میں اقلیتی برادری کے حقوق، مذہبی ہم آہنگی، عبادت گاہوں کے تحفظ، جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی کی روک تھام سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ حیدرآباد رینج کے 10 اقلیتی سہولت ڈیسک کو ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ سال 2025 میں 337 جبکہ 2026 میں 809 شکایات موصول ہوئیں، جن میں زیادہ تر ذاتی و مالی تنازعات اور ہراسانی سے متعلق تھیں۔

اجلاس میں جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کے لیے جامع فریم ورک تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ گیانچند ایسرانی نے متعلقہ اداروں کو اس حوالے سے مؤثر اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے سرکاری تعلیمی اداروں اور ملازمتوں میں پانچ فیصد اقلیتی کوٹے پر ہر محکمے میں مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے مؤثر مانیٹرنگ میکانزم قائم کرنے کی ہدایت کی۔

گیانچند ایسرانی نے پولیس ڈیپارٹمنٹ کو اقلیتی سہولت ڈیسک پر موصول ہونے والے کیسز کی ماہانہ پیش رفت رپورٹ اقلیتی کاکس کو پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی سہولت ڈیسک اور بین المذاہب امن کمیٹیوں کو مزید مؤثر بنایا جائے اور ان کی نگرانی کم از کم ڈی ایس پیز اور ایس پیز کی سطح پر یقینی بنائی جائے۔

اجلاس میں تمام عبادت گاہوں کے تحفظ، رجسٹریشن اور سکیورٹی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

گیانچند ایسرانی نے آئندہ اجلاس میں آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی اور ڈی جی نادرا کو مدعو کرنے کی ہدایت کی تاکہ اقلیتی برادری کے تحفظ، پولیس کارروائی، سہولت ڈیسک، اقلیتی آبادی کے درست اعداد و شمار اور شناختی دستاویزات سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اقلیتیں پاکستان کی برابر کی شہری ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ حکومت اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق سندھ میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے قانون سازی اور اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم موجودہ مسائل کے حل کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

صوبائی مشیر نے کہا کہ اقلیتی برادری کو تعلیم، روزگار، وظائف، ہنرمندی اور حکومتی فلاحی پروگراموں میں مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو اقلیتی برادری کے مسائل کے حل کے لیے مربوط انداز میں کام کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں سینیٹر کرشنا کماری، وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی شام سندر اڈوانی، ارکان سندھ اسمبلی روما صبات، کھٹومل، مہیش کمار ہاسیجا اور انیل کمار، سیکریٹری اقلیتی امور جمشید عالم سمیت سول سوسائٹی، پولیس، قانون و اقلیتی امور کے محکموں کے نمائندوں اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔

اجلاس کے اختتام پر اقلیتی برادری کے دن کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا، جبکہ شرکاء میں شیلڈز اور اجرک بھی تقسیم کی گئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!