سپر ٹیکس: وفاقی آئینی عدالت نے ٹیکس کریڈٹ ایڈجسٹمنٹ کو قانونی قرار دے دیا

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کو ریلیف دیتے ہوئے سپر ٹیکس کے خلاف ٹیکس کریڈٹ کی ایڈجسٹمنٹ کو قانون کے مطابق قرار دے دیا۔ عدالت نے نجی موبائل کمپنی کی اپیلیں منظور کرلیں۔

جسٹس عامر فاروق نے چھ صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ تحریر کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ انکم ٹیکس ریٹرن کی فائلنگ اور کٹوتی پر حاصل ٹیکس کریڈٹ سے سپر ٹیکس ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔

فیصلے کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 168 کے تحت حاصل ٹیکس کریڈٹ ایک الگ اور مسلمہ قانونی حق ہے۔ عدالت نے کہا کہ ٹیکس دہندہ کو یہ حق استعمال کرنے سے روکنا اور اسے ریفنڈ لینے کی طرف دھکیلنا قانون کے منافی ہے۔

ٹیکس قوانین کی تشریح سے متعلق عدالت کی آبزرویشن

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ مالیاتی قوانین کی تشریح ٹیکس دہندگان کی سہولت اور مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔

عدالت نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ وہ کمپنی کی جانب سے دائر کردہ ٹیکس کریڈٹ ایڈجسٹمنٹ کے دعوے کا جائزہ لے۔ ایف بی آر قانون کے مطابق اس معاملے پر فیصلہ کرے۔

جماعت اسلامی دھرنا: حافظ نعیم کا مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم

ایف بی آر نے نجی موبائل کمپنی کو سپر ٹیکس کی ادائیگی کے لیے نوٹس جاری کیا تھا۔ کمپنی نے ٹیکس کریڈٹ کو سپر ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹ کرنے کی درخواست دی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کمپنی کی درخواست مسترد کردی تھی۔ وفاقی آئینی عدالت نے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کمپنی کی اپیلیں منظور کرلیں۔

One thought on “سپر ٹیکس: وفاقی آئینی عدالت نے ٹیکس کریڈٹ ایڈجسٹمنٹ کو قانونی قرار دے دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!