ریڈ لائن منصوبہ شہری کی ہلاکت پر 17 کروڑ روپے سے زائد ہرجانے کا دعویٰ

کراچی میں ریڈ لائن منصوبے کی تعمیر کے دوران ایک شہری کی ہلاکت کا معاملہ عدالت پہنچ گیا ہے۔

جاں بحق شہری کے بیٹے نے سینیئر سول جج ملیر کی عدالت میں 17 کروڑ 21 لاکھ 20 ہزار روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے۔

دعویٰ میں سندھ حکومت، ملیر کنٹونمنٹ بورڈ، ریڈ لائن کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور کنٹریکٹر سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

حادثے میں شہری جاں بحق، اہلیہ اور بچہ زخمی

درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ شہری شہریار جنوری 2026 میں اہلیہ اور بچے کے ہمراہ رات گئے گھر واپس جا رہے تھے۔

وکیل کے مطابق جناح ایوینیو کے قریب سڑک کے درمیان موجود بیریئر سے ان کی گاڑی ٹکرا گئی۔

حادثے میں شہریار جاں بحق ہوگئے۔ ان کی اہلیہ اور بچہ بھی زخمی ہوئے۔

’بیریئر پر ریفلیکٹر اور وارننگ سائن نہیں تھے‘

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سڑک کے درمیان موجود بیریئرز پر ریفلیکٹر نصب نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہاں وارننگ سائن بھی موجود نہیں تھے۔ رات کے وقت مناسب اسٹریٹ لائٹس نہ ہونے سے بیریئرز واضح نظر نہیں آ رہے تھے۔

وکیل کے مطابق حادثہ ریڈ لائن منصوبے کے دوران مبینہ غفلت اور ناقص حفاظتی انتظامات کے باعث پیش آیا۔

خاندان کے واحد کفیل کی موت کا مؤقف

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ تعمیراتی کام کے دوران شہریوں کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنا متعلقہ ذمہ داروں کی بنیادی ذمہ داری تھی۔

ان کے مطابق شہریار خاندان کے واحد کفیل تھے۔ مبینہ غفلت کے باعث ان کی موت سے خاندان کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ فریقین کو مجموعی طور پر 17 کروڑ 21 لاکھ 20 ہزار روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!