سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کے حوالے سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں بتایا گیا کہ 2020 میں قائم ہونے والی اتھارٹی گزشتہ چھ سال سے ایکٹ اور باقاعدہ گورننگ باڈی کے بغیر کام کرتی رہی۔
کراچی میں نثار کھوڑو کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران کمیٹی اراکین نے اتھارٹی کے قانونی ڈھانچے اور طرزِ عمل پر سخت سوالات اٹھائے۔
پی اے سی کو بتایا گیا کہ سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کا ایکٹ تاحال منظور نہیں ہو سکا، جبکہ اتھارٹی کئی سال سے بغیر گورننگ باڈی کے کام کر رہی ہے۔ کمیٹی نے ہدایت کی کہ اتھارٹی سے متعلق قانون سازی کا عمل دو ماہ کے اندر مکمل کرکے اسے سندھ کابینہ اور اسمبلی سے منظور کرایا جائے۔
اجلاس میں سندھ بھر کے تمام اضلاع کے ماسٹر پلان بھی طلب کر لیے گئے۔ حکام نے اعتراف کیا کہ 2020 میں تیار کیے گئے سندھ ڈیولپمنٹ پلان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
سیکریٹری بلدیات نے پی اے سی کو یقین دہانی کرائی کہ سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کا ایکٹ جلد سندھ کابینہ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اتھارٹی اس وقت سندھ کے 14 اضلاع میں کام کر رہی ہے۔
پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے شہری اور دیہی علاقوں کی جامع منصوبہ بندی، سٹی سروے اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماسٹر پلان تیار کرنے پر زور دیا۔
اجلاس میں حیدرآباد کے حیدر چوک میں سیوریج کے پانی کے جمع ہونے کے معاملے پر بھی برہمی کا اظہار کیا گیا۔ پی اے سی نے نشاندہی کی کہ واسا کے چیف ایگزیکٹو افسر علاقے کی صورتحال سے لاعلم تھے، جس پر کمیٹی نے فوری نکاسی آب اور ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اس کے علاوہ تھرپارکر میں 841 ملین روپے کے ترقیاتی ٹھیکے بغیر معاہدوں کے جاری کرنے کے معاملے پر انسپیکشن کا حکم دیا گیا، جبکہ پی ڈی لوکل گورنمنٹ حیدرآباد کے ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں کی تحقیقات کی ہدایت بھی جاری کی گئی۔