میر رضا گورنر سندھ نہال ہاشمی کا دعویٰ، نوجوان نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے چار گولیاں لگیں

میر رضا کیس پر گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق نوجوان نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے چار گولیاں لگیں۔ انہوں نے کہا کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔ حتمی حقائق سامنے آنے کے بعد ہی اصل صورتحال واضح ہوگی۔

لیپ ٹاپ اسکیم پر گورنر سندھ کا مؤقف

وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت لیپ ٹاپ تقسیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ نوجوانوں میں لیپ ٹاپ تقسیم کرنا باعثِ اعزاز ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوانوں کو جدید تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے یہ اقدام کیا۔

انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کی پہلی وحی "اقرا” علم حاصل کرنے کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔ جدید دور میں تعلیم اور ٹیکنالوجی ترقی کی بنیاد ہیں۔ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی وسائل فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ پاکستان آئی ٹی برآمدات کو 25 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف رکھتا ہے۔ انہوں نے کراچی کے نوجوانوں کی ایک کامیاب کمپنی کا حوالہ بھی دیا۔ ان کے مطابق اس کامیابی نے پاکستانی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت اب تک تقریباً سات لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جا چکے ہیں۔ حکومت آئندہ سال اس پروگرام کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

کراچی، آئین اور سیکیورٹی سے متعلق بیان

نہال ہاشمی نے کہا کہ لاہور اور کراچی کا موازنہ مثبت انداز میں ہونا چاہیے۔ شہروں کو ایک دوسرے سے سیکھنا چاہیے، نہ کہ تنقید کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وہ آئین کے تحت گورنر کے منصب پر فائز ہیں۔ وہ اپنی تمام ذمہ داریاں آئینی دائرہ کار میں رہ کر انجام دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق تقسیم کی بات مناسب نہیں اور پاکستان کی وحدت مقدم ہے۔

میر رضا کیس پر تبصرہ

میر رضا کیس پر بات کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ کسی بھی نوجوان کی جان کا ضیاع افسوسناک ہے۔ ان کے مطابق میر رضا نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے چار گولیاں لگیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ ان کی معلومات ہیں اور حتمی فیصلہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں سیکیورٹی انتظامات مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق زیادہ آبادی والے شہروں میں جرائم کا خطرہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2010 کے مقابلے میں کراچی میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم امن و امان بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!