پاسپورٹ کرپشن: ایف آئی اے کا ملیر ریجنل پاسپورٹ آفس میں کریک ڈاؤن، 7 ملزمان گرفتار

کراچی: پاسپورٹ کرپشن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ریجنل پاسپورٹ آفس ملیر میں مبینہ کرپشن نیٹ ورک بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ کارروائی کے دوران سات ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

سات ملزمان گرفتار

ایف آئی اے کے مطابق گرفتار افراد میں ایجنٹس، سرکاری اہلکار اور ایک سیکیورٹی گارڈ شامل ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ افراد مبینہ طور پر غیر قانونی پاسپورٹ پراسیسنگ میں ملوث تھے۔

رشوت لے کر پاسپورٹ پراسیسنگ کا الزام

ایف آئی اے کے مطابق شہریوں سے 4 ہزار سے 5 ہزار روپے رشوت لے کر پاسپورٹ کے معاملات نمٹائے جاتے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں مبینہ طور پر منظم کرپشن نیٹ ورک کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

اہلکار بھی نیٹ ورک کا حصہ قرار

ایف آئی اے نے بتایا کہ گرفتار ملزمان میں نادرا کے ڈیٹا انٹری آپریٹر نوید علی، فوٹوگرافر و ایل ڈی سی عاطف اور سیکیورٹی گارڈ ظفر شامل ہیں۔

ادارے کے مطابق گرفتار ایجنٹس میں عامر، عتیق، مختیار، قاسم اور شیخ مقصود شامل ہیں۔

ابتدائی تحقیقات میں کیا سامنے آیا؟

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق سیکیورٹی گارڈ مبینہ طور پر ایجنٹس سے رشوت کی رقم وصول کرتا تھا۔ بعد ازاں وہ یہ رقم متعلقہ اہلکاروں تک پہنچاتا تھا۔

مزید گرفتاریاں متوقع

ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف انسدادِ بدعنوانی قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ادارے کے مطابق مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ کرپشن نیٹ ورک کے مبینہ سہولت کاروں اور سرپرستوں کی تلاش کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

بلاامتیاز کارروائی کا اعلان

ایف آئی اے نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں میں رشوت، اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!