سی آئی اے کی تنصیبات پر ہونے والے ایرانی حملوں میں روس کے ممکنہ کردار سے متعلق امریکا نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ
برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
تحقیقات میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آیا روس نے ایران کو اہداف کی نشاندہی میں مدد دی۔
امریکی حکام یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا روس نے جدید ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کی تھی۔
امریکی حکام کا مؤقف
رائٹرز سے گفتگو کرنے والے چار امریکی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کیں۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روس کے کردار سے متعلق کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
تاہم حملوں کی درستگی اور مؤثریت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق روس اور ایران کے درمیان تکنیکی تعاون بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔
سابقہ رپورٹس
رائٹرز اور دیگر میڈیا ادارے پہلے بھی اس معاملے پر رپورٹ کر چکے ہیں۔
امریکی حکام بھی پہلے ایران کو روسی معاونت کی تصدیق کر چکے ہیں۔
ان رپورٹس کے مطابق روس نے ایرانی حملوں کے لیے معلومات اور دیگر معاونت فراہم کی تھی۔
کن مقامات کو نشانہ بنایا گیا؟
رائٹرز کے مطابق مارچ میں کم از کم دو سی آئی اے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔
ان میں ایک مرکز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کے اندر واقع تھا۔
دوسرا مرکز مشرقی عراق میں قائم تھا۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید تنصیبات بھی حملوں کی زد میں آئیں۔
تاہم ان مقامات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔