ضم اضلاع ٹیکس وفاق نے فیصلہ واپس نہ لیا تو شدید ردعمل دیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

ضم اضلاع ٹیکس کے معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کو خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹیکس کے نفاذ کا فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو صوبہ شدید ردعمل دے گا۔

وفاقی ٹیکسز کے خلاف جرگے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت ضم اضلاع میں کوئی ٹیکس وصول نہیں کر رہی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں سروسز پر عائد سیلز ٹیکس بھی واپس لیا جائے گا۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کے مفادات کے تحفظ کے لیے تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں۔ انہوں نے اس تعاون پر سیاسی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ صوبے میں سیاسی ماحول بدل رہا ہے۔ عوامی مسائل پر مختلف جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے بتایا کہ وفاق سے مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر وفاق نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا تو صوبہ سخت ردعمل دے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت عوامی مفاد کو ہر فیصلے پر ترجیح دیتی ہے۔ عوام کے حقوق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔

امن و امان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ ان کے مطابق مؤثر عمل درآمد سے چار ماہ میں حالات بہتر بن سکتے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ امن و امان کے معاملے پر الگ جرگہ بھی منعقد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ صوبے کے مالی حقوق کے لیے اسلام آباد میں بھی جرگہ بلایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ اگر وہ سمجھوتہ کر لیتے تو بانی پی ٹی آئی سے ان کی ملاقات ہو چکی ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے فیصلوں کا اختیار صرف عوام کے پاس ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!