پٹرول قیمت میں وفاقی حکومت نے ایک بار پھر اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب سے ہو گیا۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پٹرول کی نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل اب 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔
اس سے چند گھنٹے قبل وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے روزانہ کی بنیاد پر نیا طریقہ کار متعارف کرایا تھا۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس اقدام کا مقصد قیمتوں کے تعین کے عمل میں شفافیت بڑھانا اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں کا بروقت اثر شامل کرنا ہے۔
وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کے بعد حکومت نے نئی قیمتوں کے تعین کا نظام نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ قیمتوں میں حالیہ اضافہ عوام کے لیے مشکل ثابت ہوگا، تاہم ان کے بقول موجودہ حالات میں یہ فیصلہ ریاستی مالی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
اس سے قبل حکومت امریکا اور ایران کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد مارچ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر ہفتہ وار نظرثانی کر رہی تھی، جبکہ اس سے پہلے قیمتیں ہر پندرہ روز بعد مقرر کی جاتی تھیں۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں بحری نقل و حمل متاثر ہونے کے خدشات نے تیل کی رسد پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ایندھن مہنگا ہوا ہے۔
I appreciated the clarity and simplicity of the explanations.