کراچی: خواتین صحافی کے لیے محفوظ، مساوی اور بااختیار میڈیا ماحول کی فراہمی ناگزیر ہے، رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ صحافت میں خواتین کی تعداد میں کمی ایک اہم مسئلہ ہے جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین صحافی بچوں، خواتین اور سماجی مسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں اجاگر کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کامیاب صحافی وہ سمجھا جاتا تھا جو سب سے پہلے خبر نشر کرے، لیکن آج کامیاب صحافت کی پہچان درست، تصدیق شدہ اور قابل اعتماد خبر ہے۔
شرمیلا فاروقی نے ان خیالات کا اظہار ویمن میڈیا سینٹر پاکستان (WMC) کے زیر اہتمام نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکریسی (NED) کے تعاون سے کراچی میں منعقدہ ایک روزہ میڈیا کانفرنس "خواتین صحافیوں کو بااختیار بنانا: لیڈرشپ، تحفظ اور جدت” سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
کانفرنس میں ملک بھر سے صحافیوں، میڈیا پروفیشنلز، ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی کے نمائندوں، طلبہ اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
ویمن میڈیا سینٹر پاکستان کی بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر فوزیہ شاہین نے کہا کہ جامعات میں میڈیا کی طالبات کی تعداد زیادہ ہے، تاہم میڈیا اداروں میں خواتین کی نمائندگی، خصوصاً فیصلہ سازی کے عہدوں پر، اب بھی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو قیادت کے لیے خود آگے بڑھنا ہوگا۔
نُکتا پاکستان کی ایڈیٹر عنبر شمسی نے کہا کہ صحافت میں کامیابی کے لیے جذبہ، ثابت قدمی اور پیشہ ورانہ عزم بنیادی عناصر ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کی کوریج سمیت اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے خواتین صحافیوں کو مشکلات کے باوجود اپنے کردار کو جاری رکھنے کا پیغام دیا۔
صحافی اور بولو بھی کی شریک بانی فریحہ عزیز نے ڈیجیٹل سیفٹی، آن لائن ہراسانی اور پیکا قانون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین صحافیوں کو مصنوعی ذہانت اور ڈیپ فیک جیسے نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو خواتین صحافیوں کے لیے مؤثر قانونی تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔
بی بی سی اردو اور عرب نیوز پاکستان کے رپورٹر براق شبیر نے کہا کہ خبر کی تصدیق صحافت کا بنیادی اصول ہے، جبکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے متعدد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔
جیو ڈیجیٹل کی سینئر سب ایڈیٹر رابعہ مشتاق نے کہا کہ مصنوعی ذہانت صحافیوں کے لیے معاون ٹیکنالوجی ہے، لیکن انسانی تصدیق اور ادارتی ذمہ داری کی اہمیت برقرار رہے گی۔
ڈان کی سینئر اسٹاف رپورٹر شازیہ حسن نے کہا کہ خواتین کو صحافت کے ہر شعبے میں مساوی مواقع ملنے چاہئیں اور انہیں مخصوص بیٹس تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔
ماہر تعلیم ڈاکٹر ہما بقائی نے کہا کہ خواتین مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں، تاہم فیصلہ سازی کے عمل میں ان کی نمائندگی اب بھی بڑھانے کی ضرورت ہے، خاص طور پر مصنوعی ذہانت جیسے نئے شعبوں میں۔
کانفرنس کے دوران خواتین صحافیوں کی قیادت، آن لائن تحفظ، اخلاقی صحافت، مصنوعی ذہانت، غلط معلومات کی روک تھام اور ڈیجیٹل میڈیا کے نئے مواقع پر مختلف سیشنز منعقد کیے گئے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کی مؤثر شمولیت سے میڈیا کا کردار مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
Thanks for sharing your insights. They were both practical and informative.