لاہور: غیر ملکی خواتین کیس میں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا ہے کہ پولیس نے مبینہ طور پر ایک سینئر حکومتی شخصیت سے تعلق رکھنے والے ملزم کے ساتھ بھی وہی قانونی سلوک کیا ہے جو کسی بھی دوسرے ملزم کے ساتھ کیا جاتا ہے، اور تحقیقات میں کسی کو رعایت نہیں دی گئی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فیصل کامران نے بتایا کہ غیر ملکی خواتین کے اغوا اور مبینہ زیادتی کے مقدمے کی تحقیقات لاہور پولیس کر رہی ہے، کیونکہ یہ کیس کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے دائرۂ کار میں نہیں آتا۔ ان کے مطابق پنجاب پولیس کے ریپ سیل نے مقدمے کی تحقیقات اپنے سپرد کر رکھی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں غیر ملکی خواتین 26 جون کو اسلام آباد پہنچیں اور 29 جون کو لاہور آئیں۔ یکم جولائی کی رات سیف سٹی اتھارٹی کو اطلاع ملی کہ ایک شخص، کارلوس، نے اپنی بیٹی کے مبینہ اغوا اور تاوان طلب کیے جانے کی اطلاع دی، جس کے بعد پولیس نے فوری تحقیقات شروع کر دیں۔
ڈی آئی جی کے مطابق پولیس نے موبائل فون نمبرز، گاڑی کے رجسٹریشن ریکارڈ، سفری معلومات اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے شواہد اکٹھے کیے اور لاہور، شاہدرہ، ڈیفنس، سرگودھا اور دیگر علاقوں میں چھاپے مارے۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات کے دوران ایک مشتبہ شخص کی شناخت محمد رضا ڈار کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق اس کے اہلِ خانہ سے معلومات کی تصدیق کی گئی، موبائل نمبر حاصل کیا گیا اور اس کی لوکیشن ٹریس کی گئی۔ فیصل کامران نے کہا کہ ممکنہ طور پر اہلِ خانہ نے بھی ملزم کو قانون کے سامنے پیش ہونے کا مشورہ دیا ہوگا۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ جیسے ہی یہ معلوم ہوا کہ ملزم کے مبینہ روابط ایک اعلیٰ حکومتی شخصیت سے ہیں، پولیس نے فوری طور پر سینئر حکام اور حکومت کو آگاہ کیا۔ ان کے بقول حکومت کی جانب سے واضح ہدایات دی گئیں کہ ملزم کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک نہ کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ امکان بھی سامنے آیا ہے کہ واقعے میں صرف ایک شخص نہیں بلکہ ایک ممکنہ گینگ بھی ملوث ہو سکتا ہے، جس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔
فیصل کامران کے مطابق ملزم محمد رضا ڈار دونوں خواتین کو گاڑی میں ایئرپورٹ لے جا رہا تھا کہ بھٹہ چوک کے قریب مبینہ طور پر گاڑی کے اندر ہاتھا پائی ہوئی۔ اس دوران گاڑی ایک مقام پر جا کر ٹکرا گئی، جس کے بعد دونوں خواتین گاڑی سے نکل کر قریبی فلٹر ہاؤس میں پناہ لینے میں کامیاب ہوئیں، جہاں سے پولیس نے انہیں بحفاظت بازیاب کرایا۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے طبی معائنے کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کے احکامات درکار تھے۔ چونکہ صبح ان کی پرواز تھی، اس لیے رات گئے ایک ایس ایچ او کو مجسٹریٹ کی رہائش گاہ بھیجا گیا۔ فیصل کامران نے اس اقدام پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے کیا گیا۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ بازیابی کے بعد اسپین اور نیدرلینڈز کے سفارتخانوں سے بھی رابطہ کیا گیا۔ اسپین کے سفارتخانے نے پولیس کو آگاہ کیا کہ متاثرہ خواتین میں سے ایک کا تعلق وینزویلا سے ہے۔ سفارتی رابطوں کے بعد دونوں خواتین طبی معائنے اور ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے پر رضامند ہو گئیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ متعلقہ سفارتخانوں نے دونوں خواتین کی جلد وطن واپسی کی درخواست بھی کی ہے، جبکہ پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔