ٹرمپ، ایران اور پاکستان ثالثی: امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط، مذاکرات کا نیا مرحلہ شروع

فرانس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان عشائیے کے موقع پر ایک مبینہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس تقریب کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔

ایران کی جانب سے بھی دستخط کا دعویٰ

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے بھی اسی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔
اس کے بعد پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ثالث کے طور پر دستخط کیے، تاہم اس کی آزاد تصدیق موجود نہیں۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا نیا مرحلہ

ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے بعد مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا آغاز ہونا ہے۔
یہ مرحلہ “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

ابتدائی مقام اور تبدیلی

ابتدائی طور پر مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا کا انتخاب کیا گیا تھا۔
تاہم دو روز قبل اچانک مقام تبدیل کر دیا گیا۔

برجنسٹاک کا انتخاب

نئے فیصلے کے تحت مذاکرات کے لیے برجنسٹاک کو منتخب کیا گیا ہے۔
یہ ایک پہاڑی اور انتہائی محفوظ سیاحتی علاقہ ہے۔

مقام کی تبدیلی کی مبینہ وجوہات

ایرانی وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق مقام تبدیل کرنے کی پانچ وجوہات تھیں۔
ان میں سب سے اہم سکیورٹی کو قرار دیا گیا۔

میڈیا اور سکیورٹی کنٹرول

اہلکار کے مطابق برجنسٹاک میں میڈیا تک رسائی محدود ہے۔
اس لیے وہاں رازداری برقرار رکھنا زیادہ آسان سمجھا گیا۔

سوئٹزرلینڈ کا سابقہ تجربہ

سوئٹزرلینڈ نے 2024 میں یوکرین امن مذاکرات کی میزبانی بھی کی تھی۔
اس اجلاس میں 160 ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے شرکت کی تھی۔

آئندہ مرحلے پر غیر یقینی صورتحال

ابھی یہ واضح نہیں کہ اگلا مذاکراتی دور برجنسٹاک میں ہوگا یا نہیں۔
یہ بھی طے نہیں کہ اگر اجلاس نہ ہوا تو نیا مقام یا تاریخ کیا ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!