ورلڈ کلچر فیسٹیول: ’’گھن چکر‘‘ اور ’’منٹو میرا دوست‘‘ نے شائقین کے دل جیت لیے

کراچی میں آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیرِ اہتمام تیسرے ورلڈ کلچر فیسٹیول 2026ء کے نویں روز مختلف ثقافتی سرگرمیاں پیش کی گئیں۔ پروگرام میں بچوں کا تھیٹر، فائن آرٹس اور میوزک ورکشاپس، فلموں کی نمائش، مزاحیہ و سنجیدہ ڈرامے اور میوزیکل کنسرٹ شامل تھے۔

25 روزہ فیسٹیول میں ناروے کے تھیٹر گروپ ’’Erler Teaterkompani‘‘ نے بچوں کے لیے ایڈونچر سے بھرپور پلے ’’Gangster Hunting with Daisy Detective‘‘ پیش کیا۔

ڈرامے میں جاسوس کردار ڈیزی ڈیٹیکٹو ایک پراسرار کیس کی گتھیاں سلجھانے اور گینگسٹر کا تعاقب کرتا دکھائی دیا۔

کینیا اور پولینڈ کے فنکاروں کی آرٹ ورکشاپس

فیسٹیول کے دوران کینیا کے معروف فنکار اونیس مس اوکامار (Onesmus Okamar) نے فائن آرٹس کی تربیتی ورکشاپ منعقد کی۔ انہوں نے شرکاء کو مصوری اور فنونِ لطیفہ کی باریکیاں سکھائیں۔

اوکامار نے بتایا کہ ان کے فن پاروں کا مرکزی کردار عورت ہے۔ ان کے کردار ہمیشہ روشنی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق زندگی کتنی ہی تاریک کیوں نہ ہو، اہم بات روشنی تلاش کرنا ہے۔

پولینڈ کی معروف آرٹسٹ ڈومینیکا سرجی (Dominika Sergeij) نے بھی فائن آرٹس ورکشاپ منعقد کی۔ انہوں نے رنگوں اور کاغذ کے ذریعے امن اور سکون کا پیغام دینے کی تکنیک سکھائی۔

اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ فنونِ لطیفہ امن کا پیغام پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ رنگوں، موسیقی اور تھیٹر کے ذریعے لوگوں تک اپنا پیغام پہنچایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو امن کی ضرورت ہے۔

امریکی موسیقاروں کی میوزک ورکشاپ

فیسٹیول میں امریکی موسیقار رضوان جگانی اور پیانسٹ سولٹو نے میوزک ورکشاپ منعقد کی۔ اس میں موسیقی کے طلباء اور فنکاروں نے شرکت کی۔

امریکی فنکاروں نے چیمبر میوزک میں ہم آہنگی اور توازن کے حوالے سے تربیت دی۔ انہوں نے ورکشاپ کے دوران موسیقی کی پرفارمنس بھی پیش کی، جسے شرکاء نے سراہا۔

فلم اسکریننگ میں پاکستانی اور طلباء کی بنائی ہوئی چار فلمیں دکھائی گئیں۔ ان میں ’’ججی‘‘، ’’چاند پہ چرخہ کاتتی بڑھیا‘‘، ’’پانی متھے جھوپڑا‘‘ اور ’’دل دیاں گلاں‘‘ شامل تھیں۔

’’گھن چکر‘‘ اور ’’منٹو میرا دوست‘‘ میں شائقین کا رش

فیسٹیول میں فرحان رحیم کا مزاحیہ تھیٹر ’’گھن چکر‘‘ پیش کیا گیا۔ ڈرامے کو دیکھنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد پہنچ گئی۔ شائقین کے رش کے باعث اسٹوڈیو کے گیٹ بند کرنا پڑے۔

تحریکِ نسواں نے تھیٹر ڈرامہ ’’منٹو میرا دوست‘‘ بھی پیش کیا۔ اس میں معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی کی دوستی، ادبی تعلق اور زندگی کے تجربات کو موضوع بنایا گیا۔

ڈرامے میں تقسیمِ ہند کے انسانی المیے، ہجرت، مذہبی تعصب اور معاشرتی تضادات کو اجاگر کیا گیا۔ فنکاروں نے منٹو کی بے باک ادبی فکر اور انسانی رویوں کے گہرے مشاہدے کو بھی فنکارانہ انداز میں پیش کیا۔ اس ڈرامے کو دیکھنے کے لیے بھی شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

علی نور اور احسن باری کی موسیقی نے محفل لوٹ لی

فیسٹیول کے اختتام پر جون ایلیا لان میں ’’Pure Vibes with Ali Noor‘‘ کے نام سے میوزیکل کنسرٹ منعقد ہوا۔

معروف گلوکار علی نور اور احسن باری نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔ دونوں فنکاروں نے دلکش پرفارمنس سے حاضرین کو محظوظ کیا۔

شائقین نے بھرپور داد دی اور جون ایلیا لان تالیوں سے گونج اٹھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!