کراچی (خصوصی رپورٹر) پاکستان سنی تحریک کے مرکزی رہنما و ترجمان فہیم الدین شیخ کی والدہ ماجدہ کے ایصال ثواب کے لیے روحانی اجتماع منعقد ہوا۔ تقریب مدرسۃ البخاری میں قرآن خوانی، محفل نعت اور بیان کا اہتمام کیا گیا۔
یہ اجتماع مزار حضرت قطب العالم شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے متصل مدرسۃ البخاری میں منعقد ہوا۔ اس میں علماء کرام، مشائخ عظام، تاجر رہنماؤں، وکلاء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب میں قرآن خوانی اور بارگاہ رسالت ﷺ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا۔ مرحومہ کے ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔ علماء کرام نے اللہ تعالیٰ سے مرحومہ کی مغفرت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرنے کی دعا کی۔
علماء کرام اور ممتاز شخصیات کی شرکت
تقریب میں چیئرمین ختم نبوت موومنٹ مفتی عبداللہ نوری، علامہ نذیر رضوی، علامہ سلطان مدنی، علامہ خورشید اویسی اور علامہ قاری مشتاق قادری شریک ہوئے۔
علامہ ظہور نقشبندی اور سربراہ انجمن نوجوانان اسلام سلیم عطاری بھی موجود تھے۔ تاجر رہنماؤں شرجیل گوپلانی، کاشف سعیدی، اسماعیل لائلپوریہ، خالد محمود اور آصف رضا قادری نے شرکت کی۔
قاری امان قادری، قاری فرقان قادری اور نعت خوان ندیم نوشاہی بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ محبان اعلیٰ حضرت کے وسیم عطاری اور رکن کراچی رابطہ کمیٹی صاحبزادہ بلال رضا بھٹی بھی موجود تھے۔
صادق شیخ، آصف راٹھور اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
ماں کی محبت اور قربانیوں کا کوئی نعم البدل نہیں
فہیم الدین شیخ نے تقریب میں شریک تمام معزز شخصیات کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام احباب نے قیمتی وقت نکال کر تقریب میں شرکت کی اور دعاؤں میں یاد رکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ شرکاء کی آمد، محبت اور خلوص نے غم بانٹنے میں حوصلہ دیا۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام شرکاء کو اس نیکی کا اجر عطا فرمائے۔
فہیم الدین شیخ نے کہا کہ ماں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عظیم نعمت ہے۔ اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ماں کی محبت بے غرض، دعائیں بے مثال اور قربانیاں ناقابل فراموش ہوتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماں اپنی اولاد کی خوشیوں کے لیے خواہشات قربان کرتی ہے۔ وہ خود تکلیف برداشت کرتی ہے لیکن اولاد کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی۔
ان کے مطابق ماں اولاد کی پہلی درسگاہ ہے۔ وہ زندگی کے ہر مشکل مرحلے میں محبت، حوصلے اور رہنمائی کا سرچشمہ ہوتی ہے۔ ماں کی آغوش پہلی تربیت گاہ اور اس کی دعائیں زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔
والدین کی خدمت عظیم عبادت ہے
فہیم الدین شیخ نے کہا کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہے اور باپ جنت کا دروازہ ہے۔ والدین کی خدمت صرف معاشرتی ذمہ داری نہیں بلکہ عظیم عبادت ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام والدین کے احترام اور خدمت کو غیر معمولی اہمیت دیتا ہے۔ والدین کی زندگی میں ان کی خدمت کرنا اولاد کی ذمہ داری ہے۔ ان کے انتقال کے بعد دعائے مغفرت، صدقہ و خیرات اور ایصال ثواب کا اہتمام بھی ضروری ہے۔
فہیم الدین شیخ کا کہنا تھا کہ ماں کی جدائی ایسا صدمہ ہے جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ والدہ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی ان کی محبت اور شفقت دلوں میں زندہ رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ والدہ کی دعائیں، تربیت اور نصیحتیں ہمیشہ اولاد کی رہنمائی کرتی ہیں۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ والدین کی زندگی میں ان کی قدر کریں اور خدمت کو اپنا شعار بنائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ والدین کے وصال کے بعد بھی ان کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔
آخر میں فہیم الدین شیخ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ سب کو والدین کی قدر اور خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔