...

کراچی میں رواں سال اسٹریٹ کرائم میں 14 فیصد کمی ہوئی، آئی جی سندھ

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ رواں سال کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں 14 فیصد کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق جرائم پر قابو پانے میں تاجر برادری کا کردار اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی بھی پولیس عوامی تعاون کے بغیر مؤثر پولیسنگ نہیں کرسکتی۔ کراچی میں جرائم کی شرح کم کرنے کے لیے شہریوں اور تاجروں کا تعاون ضروری ہے۔

آئی جی سندھ نے منگل کو کمیونٹی پولیسنگ کے موضوع پر سیمینار سے خطاب کیا۔ یہ سیمینار سی پی کے کے تحت منعقد کیا گیا تھا۔

کراچی میں کیمروں کی تعداد 40 ہزار ہوگئی

جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ 2012 میں جب وہ ڈی آئی جی تھے تو اسٹریٹ کرائم زیرِ بحث نہیں آتا تھا۔ آج کراچی میں بیرون ملک سے فنکار آکر قیام کر رہے ہیں اور آرٹ کو فروغ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں پہلے 32 ہزار کیمرے نصب تھے۔ سی پی کے کے تعاون سے گزشتہ دو سے تین سال میں یہ تعداد 40 ہزار تک پہنچا دی گئی ہے۔

ان کے مطابق کیمروں کی مدد سے جرائم اور سماجی واقعات کی نگرانی کی جارہی ہے۔ گاڑیاں چھیننے والے ملزمان بھی کیمروں یا پولیس مقابلوں کے دوران پکڑے جارہے ہیں۔

آئی جی سندھ نے سی پی کے سینٹرز کو کمیونٹی سینٹرز بنانے کی تجویز پر بھی غور کرنے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹس ان مراکز کی قیادت کریں۔ اس طرح گھریلو مسائل مقامی سطح پر حل ہوسکیں گے۔

ان کے مطابق گھریلو تنازعات بعض اوقات قتل اور دیگر جرائم کا سبب بنتے ہیں۔

پولیس نفری اور جرائم میں کمی

آئی جی سندھ نے کہا کہ کراچی میں گھریلو ملازماؤں کے روپ میں بھی جرائم پیشہ افراد سرگرم ہیں۔ ان کے بقول ایک ملزمہ نے اکیلے 18 ڈکیتیاں کروائیں۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی پولیس میں 42 ہزار اہلکار موجود ہیں۔ شہر کو 60 ہزار اہلکاروں کی ضرورت ہے۔ نئی نفری میں تعلیم یافتہ اور ٹیکنالوجی سے واقف افراد شامل ہونے چاہییں۔

جاوید عالم اوڈھو کے مطابق پورے سندھ میں ڈکیتی مزاحمت پر قتل کے واقعات میں 17 فیصد کمی آئی ہے۔ اسی طرح ایسے واقعات میں زخمی ہونے والوں کی تعداد بھی 32 فیصد کم ہوئی ہے۔

کراچی پولیسنگ ایک بڑا چیلنج ہے، ایڈیشنل آئی جی

ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے کہا کہ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ شہر میں پولیسنگ ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عوامی تعاون ضروری ہے۔

انہوں نے کراچی کی بزنس کمیونٹی کے کردار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیونٹی پولیسنگ کے منصوبوں کو مزید آگے بڑھانا چاہیے۔

آزاد خان نے بتایا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں 15 فیصد کمی آئی ہے۔ قتل اور دیگر سنگین جرائم میں 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ان کے مطابق گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں 15 فیصد کمی ہوئی۔ ڈکیتی مزاحمت پر قتل میں 89 فیصد اور زخمی ہونے کے واقعات میں 80 فیصد کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں مزید کیمروں کی ضرورت ہے۔ کوشش کی جارہی ہے کہ کمیونٹی پولیسنگ کے کیمروں کو سیف سٹی منصوبے سے منسلک کیا جائے۔

18 تھانوں کی حدود میں 2 ہزار کیمرے نصب

سی پی کے کے پیٹرن انچیف مراد علی سونی نے کہا کہ کراچی میں چھوٹے تاجروں کی 70 تنظیمیں سرگرم ہیں۔ انہیں کمیونٹی پولیسنگ کی اہمیت سے آگاہ کرنے کے لیے سیمینار میں مدعو کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک تاجر برادری کراچی کی اونرشپ نہیں لے گی، شہر میں تبدیلی ممکن نہیں۔ سی پی کے نے 18 تھانوں کی حدود میں 2 ہزار کیمرے نصب کیے ہیں۔ مزید 600 کیمرے پائپ لائن میں ہیں۔

مراد علی سونی کے مطابق یہ ایک تحریک ہے۔ اس کا مقصد کراچی کو پرامن اور سرسبز بنانا ہے۔ جدید کیمرے دو کلومیٹر تک نگرانی کرسکتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سی پی کے گزشتہ 30 سال سے سندھ پولیس کے ساتھ کام کررہی ہے۔ تاجر تنظیموں کو اپنی مارکیٹوں میں کم از کم 50 کیمرے لگانے چاہییں۔ ان کیمروں کا کنٹرول متعلقہ تھانوں کے حوالے کیا جائے۔

مراد علی سونی نے کہا کہ ان کا گرین پراجیکٹ شہر کو کنکریٹ کے پھیلاؤ سے نکال کر سرسبز بنانے کی کوشش ہے۔ خواتین کو بااختیار بنانا بھی منصوبے کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سی پی کے ہیلتھ منصوبے کے تحت جیلوں میں قیدیوں کو مفت ادویات اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

کراچی چیمبر کا پولیس سے تعاون جاری رکھنے کا اعلان

صدر کراچی چیمبر طلعت محمود نے کہا کہ شہر کی اونرشپ کے لیے کراچی چیمبر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی سوا تین کروڑ تک پہنچ چکی ہے، لیکن پولیس کی نفری میں اضافہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق پولیس کی نفری دو کروڑ آبادی کے حساب سے تھی۔

طلعت محمود نے کہا کہ پولیس کا ساتھ دینا شہریوں کی ذمہ داری ہے۔ جہاں ضرورت ہوگی، کراچی چیمبر تعاون کرے گا۔ شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام فریق مل کر کام کریں گے۔

گورنر سندھ کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر سیف الرحمان نے بھی تاجروں پر پولیس کا ساتھ دینے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ نے سی پی کے کو بھرپور تعاون فراہم کیا ہے۔

جرائم اور صحت کے مسائل کا تعلق

سی ای او انڈس اسپتال ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ 30 فیصد مریض منشیات اور اسٹریٹ کرائم کے باعث اسپتال لائے جاتے ہیں۔

ان کے مطابق تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرسبز علاقوں میں لڑائی اور جرائم کم ہوتے ہیں۔ صفائی بہتر ہونے سے بیماریوں میں بھی کمی آتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انڈس اسپتال کا منصوبہ پانچ دوستوں نے شروع کیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ ہر 600 افراد کے لیے ایک پولیس اہلکار موجود ہے۔ عوامی تعاون کے بغیر پولیسنگ ممکن نہیں۔

شہر کو محفوظ اور سرسبز بنانے کے منصوبے

کراچی پریس کلب کے سیکرٹری اسلم خان نے کہا کہ شہر کو محفوظ بنانے کے لیے ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق تاجر برادری ہمیشہ پولیس کے ساتھ تعاون کرتی رہی ہے۔

آباد کے سینئر وائس چیئرمین دانش بن رؤف نے مراد علی سونی کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آباد نے یکم اکتوبر سے شہر کو سرسبز بنانے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔

ان کے مطابق ایک ہزار گز کے پلاٹ کی منظوری پر ایک لاکھ روپے مالیت کے درختوں کے لیے فنڈز جمع کیے جائیں گے۔ مطلوبہ رقم جمع ہونے کے بعد شجرکاری مہم شروع ہوگی۔

دانش بن رؤف نے کہا کہ ہر شہری اپنی ذمہ داری پوری کرے تو کراچی کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.