وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ حکومت بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے موجودہ نظام میں تبدیلی پر کام کر رہی ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت 200 یونٹ کی حد کے بجائے صارفین کی غربت کو مدنظر رکھتے ہوئے رعایت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
سینیٹ اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران اویس لغاری نے بتایا کہ حکومت 200 یونٹ کی حد ختم کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔ ان کے مطابق بعض صاحبِ حیثیت صارفین سولر سسٹم لگا کر اپنی بجلی کا استعمال 200 یونٹ سے کم کرلیتے ہیں۔ اس طرح وہ بھی رعایتی نرخوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے نظام میں تبدیلی
وفاقی وزیر نے کہا کہ بجلی کے ٹیرف سلیب کا تعین ضروری ہے تاکہ موجودہ مسائل حل کیے جاسکیں۔ ان کے مطابق 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد تقریباً دو کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان میں بڑی تعداد ایسے صارفین کی ہے جو شمسی توانائی استعمال کرتے ہیں۔
اویس لغاری کے مطابق حکومت ایسا نظام بنانے پر کام کر رہی ہے جس میں بجلی کے استعمال شدہ یونٹس کے بجائے غربت کو ریلیف دینے کی بنیاد بنایا جائے۔ اس منصوبے کے تحت غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کو سہولت دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
چار سال میں گردشی قرضہ ختم کرنے کا ہدف
وزیر توانائی نے سینیٹ کو بتایا کہ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ کم ہوکر 1,670 ارب روپے رہ گیا ہے۔ حکومت نے آئندہ چار سال میں گردشی قرضہ ختم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسی مدت میں گردشی قرضوں پر عائد ڈیٹ سروس سرچارج بھی ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ اویس لغاری کے مطابق حکومت کے قیام کے وقت وزارت توانائی کو 1,180 ارب روپے کی بجٹ سپورٹ ملتی تھی، جو رواں سال کم ہوکر 700 ارب روپے رہ گئی ہے۔
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات پر گفتگو
اویس لغاری نے کہا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، یعنی ڈسکوز، کے نقصانات میں ہر سال کمی کی گئی ہے۔ تاہم، ان کے مطابق اس کمی کا فائدہ ابھی تک صارفین تک نہیں پہنچ سکا۔
اجلاس میں سینیٹر عابد شیر علی نے بجلی کے نرخوں اور پروٹیکٹڈ صارفین کے بلوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے بل عوام کی استطاعت سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق 200 یونٹ سے صرف ایک یونٹ زیادہ استعمال کرنے پر بل اچانک دگنا ہوجاتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بجلی چوری کے نقصانات کا بوجھ بھی غریب صارفین پر ڈالا جا رہا ہے۔
سینیٹ میں کورم کی کمی پر کارروائی متاثر
سینیٹ اجلاس کے دوران حکومتی ارکان کی غیر حاضری اور کورم پورا نہ ہونے کے باعث کارروائی بار بار متاثر ہوئی۔ اجلاس کی صدارت پریزائیڈنگ افسر سینیٹر عبدالقادر نے کی۔
وقفہ سوالات کے دوران سینیٹر محسن عزیز نے اعتراض کیا کہ ایوان میں کوئی وزیر موجود نہیں اور سوالات کے جواب کون دے گا۔ سینیٹر ہمایوں مہمند نے بھی حکومتی ارکان کی عدم موجودگی پر تنقید کی۔
اس دوران محسن عزیز نے کورم کی نشاندہی کردی۔ گھنٹیاں بجانے کے باوجود کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس میں آدھے گھنٹے کا وقفہ کیا گیا۔ وقفے کے بعد اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ایوان میں صرف آٹھ ارکان موجود تھے۔
کورم پورا کرنے کے لیے دوبارہ گھنٹیاں بجائی گئیں۔ بعد ازاں اپوزیشن ارکان بھی ایوان میں واپس آگئے۔ ایک رکن کی آمد کے بعد کورم مکمل ہوا اور کارروائی دوبارہ شروع کردی گئی۔
صحافیوں کا پریس گیلری سے واک آؤٹ
اجلاس کے دوران صحافیوں نے اپنے مسائل کے حل کے لیے پارلیمنٹ کی پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر ناصر بٹ اور تحریک انصاف کے سینیٹر مرزا محمد آفریدی صحافیوں کے مسائل سننے کے لیے پریس گیلری پہنچے۔
دونوں سینیٹرز نے صحافیوں کو مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد صحافیوں نے احتجاج ختم کردیا۔
اجلاس کے دوران حکومتی بنچوں پر ارکان کی تعداد بھی کم رہی۔ خبر کے مطابق اس وقت حکومتی نشستوں پر صرف دو ارکان موجود تھے۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس جمعرات کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا گیا۔