سندھ حکومت کی جانب سے میر رضا علی خان کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اپنا نمائندہ نامزد کردیا ہے۔
این سی سی آئی اے کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر جے آئی ٹی کے رکن کی حیثیت سے شامل ہوں گے۔ ایجنسی کے مطابق وہ تحقیقات میں سائبر کرائم سے متعلق تکنیکی معاونت بھی فراہم کریں گے۔
ڈیجیٹل شواہد کی جانچ ہوگی
ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے نے جے آئی ٹی میں شمولیت کے لیے محکمہ داخلہ سندھ کو خط ارسال کردیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایجنسی کیس کی تحقیقات میں ڈیجیٹل شواہد کی جانچ، ان کے تجزیے اور تکنیکی معاونت کی ذمہ داری ادا کرے گی۔ اس سلسلے میں موبائل فونز اور سوشل میڈیا سے متعلق ریکارڈ کا بھی جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کرپٹو کرنسی ریکارڈ بھی زیرِ تفتیش
ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دوران کرپٹو کرنسی سے متعلق ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ بھی لیا جائے گا۔ اس عمل کا مقصد کیس سے متعلق ڈیجیٹل معلومات اور ممکنہ تکنیکی شواہد کی جانچ کرنا ہے۔
این سی سی آئی اے کی شمولیت سے جے آئی ٹی کو سائبر کرائم اور ڈیجیٹل شواہد کے تجزیے میں تکنیکی معاونت حاصل ہوگی۔ کیس کی مزید تفصیلات اور تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی معاملے کی مکمل صورتحال واضح ہوسکے گی۔