R4 اجلاس استنبول میں آٹھ ممالک کا علاقائی امن اور بحری سلامتی پر اتفاق

ترکیہ کے شہر استنبول میں آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ نے علاقائی امن، بحری سلامتی اور جاری تنازعات پر تبادلہ خیال کیا۔ مشترکہ اعلامیے کے مطابق اجلاس میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران سے تنازع، اسرائیل فلسطین کشیدگی، غزہ میں دو ریاستی حل اور سعودی عرب پر حوثی حملوں سمیت اہم امور زیرِ بحث آئے۔

اجلاس میں آبنائے ہرمز، باب المندب اور بحیرہ اسود میں بڑھتی کشیدگی پر بھی بات ہوئی۔ وزرائے خارجہ نے جہاز رانی کی آزادی اور اہم بحری راستوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

علاقائی تنازعات کے سفارتی حل پر زور

مشترکہ اعلامیے کے مطابق وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا کہ علاقائی تنازعات کے سکیورٹی، معیشت اور تجارت پر اثرات سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہییں۔

آٹھوں ممالک نے خطے اور دنیا بھر میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے تنازعات کی روک تھام کے لیے اسی فارمیٹ میں مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

R4 اور یورپی ممالک کا پہلا مشترکہ اجلاس

یہ اجلاس ترکیہ، مصر، پاکستان اور سعودی عرب پر مشتمل گروپ ’آر فور‘ (R4) اور فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہوا۔

مشترکہ اعلامیے کے مطابق، آٹھوں ممالک کا اس فارمیٹ میں یہ پہلا اجلاس تھا۔ ترکیہ نے 23 اکتوبر کو اس کی میزبانی کی۔

R4 گروپ کا مقصد علاقائی معاملات پر مشاورت اور سفارتی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یورپی ممالک کی شرکت سے مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں پر علاقائی اور یورپی حکومتوں کے درمیان رابطے کا دائرہ وسیع ہوا۔

اہم بحری راستوں کی سلامتی پر تشویش

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتا ہے اور عالمی جہاز رانی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ان راستوں میں عدم تحفظ تیل اور دیگر اشیا کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس سے عالمی سپلائی چین، جہاز رانی کے اخراجات اور توانائی کی قیمتوں پر بھی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے بھی یہ اجلاس سفارتی اعتبار سے اہم تھا۔ اسلام آباد علاقائی کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے سفارتی حل کے لیے رابطوں میں شریک ہے۔

اسحاق ڈار کی حاقان فیدان سے ملاقات

اجلاس کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے ترک ہم منصب حاقان فیدان سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال، فلسطین اور علاقائی امن و سلامتی پر تبادلہ خیال کیا۔

دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی اور علاقائی معاملات پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!