این سی سی آئی اے کراچی زون کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 15 روز میں سوشل میڈیا کے 39 اکاؤنٹس بحال کیے گئے۔ مالی نقصان پہنچانے میں ملوث 95 اکاؤنٹس بھی بلاک کیے گئے۔
شہزاد اکبر کے مطابق، جعلی شناخت کے ذریعے خواتین کو ہراساں کرنے والے 38 اکاؤنٹس کے خلاف بھی کارروائی ہوئی۔
بچوں کے استحصال سے متعلق کیس
شہزاد اکبر نے بتایا کہ این سی سی آئی اے نے گزشتہ رات ایک اطلاع پر چھاپہ مارا۔ ان کے مطابق، اس کارروائی میں کم عمر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق کیس سامنے آیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس نیٹ ورک کے پیچھے جرمنی اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے افراد تھے۔ ان کے بقول، بچوں سے فحش ویڈیوز بنوانے کے لیے رقم دی جاتی تھی۔
ڈپٹی ڈائریکٹر نے بتایا کہ ڈارک ویب سے منسلک اس کیس میں 42 ملزمان گرفتار ہوئے۔ ان میں 12 کم عمر افراد بھی شامل ہیں۔
انہوں نے فدا نامی شخص کو مبینہ طور پر مرکزی کردار قرار دیا۔ ان کے مطابق، وہ تین کمپنیاں چلا رہا تھا۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ اس نیٹ ورک میں نام نہاد ’ریڈ رومز‘ بھی قائم تھے۔ وہاں بچوں کو مختلف کام سونپے جاتے تھے۔ تاہم، حکام نے کیس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
آن لائن تحفظ کے لیے احتیاط کی ہدایت
شہزاد اکبر کے مطابق، دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے نیٹ ورک موجود ہیں۔ انہوں نے کراچی میں پہلے ایک بچے اور حال ہی میں 14 سالہ لڑکی کا سراغ لگانے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزامات پر بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق، حمزہ نامی ملزم کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا۔
این سی سی آئی اے نے واٹس ایپ بزنس اور دیگر سوشل میڈیا صارفین کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ صارفین اپنے اکاؤنٹس کی سکیورٹی مضبوط رکھیں۔
اپنے اکاؤنٹ کا تصدیقی کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ نامعلوم لنکس کھولنے اور مشکوک پیغامات کا جواب دینے سے بھی گریز کریں۔