سی ٹی ڈی کراچی: مشترکہ کارروائیوں میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے 3 مشتبہ دہشت گرد گرفتار

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کراچی اور وفاقی حساس ادارے نے شہر کے مختلف مقامات پر مشترکہ کارروائیاں کرتے ہوئے تین مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔ حکام کے مطابق، گرفتار ملزمان میں دو کا تعلق کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) جبکہ ایک کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ہے۔

سی ٹی ڈی کی پریس ریلیز کے مطابق، گرفتار ملزمان کے قبضے سے ایک تیار شدہ امپرووائزڈ ایکسپلوزو ڈیوائس (آئی ای ڈی)، ایک ہینڈ گرنیڈ، 30 بور پستول، لوڈ میگزین اور پانچ گولیاں برآمد ہوئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان مبینہ طور پر کراچی میں حساس مقامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

گلستان جوہر میں بی ایل اے کے دو ملزمان گرفتار

سی ٹی ڈی کے مطابق، پہلی کارروائی خفیہ اطلاع پر مین یونیورسٹی روڈ، بلاک 7، گلستان جوہر کے قریب کی گئی۔ اس دوران کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی سے مبینہ تعلق رکھنے والے دو ملزمان رحیم فضل ولد فضل محمود اور بالاچ بلوچ ولد رسول بخش کو گرفتار کیا گیا۔

پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں ملزمان اپنے تنظیمی کمانڈر سے رابطے میں تھے اور آئی ای ڈی و ہینڈ گرنیڈ کے ذریعے کراچی میں حساس مقامات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

حکام کے مطابق، ابتدائی تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں مبینہ طور پر ملوث رہے ہیں۔ پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے افغانستان میں اسلحہ چلانے کی تربیت حاصل کی تھی۔

پولیس کے مطابق، ان دونوں ملزمان کے قبضے سے ایک تیار شدہ آئی ای ڈی اور ایک ہینڈ گرنیڈ برآمد ہوا۔

گلبائی چوک سے ٹی ٹی پی کا مبینہ رکن گرفتار

سی ٹی ڈی اور وفاقی حساس ادارے نے دوسری کارروائی گلبائی چوک کے پل کے نیچے کی، جہاں سے شاہ نور رحمان خان ولد اختر عالم کو گرفتار کیا گیا۔ حکام نے اسے کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ مشتبہ ملزم قرار دیا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق، ملزم کے قبضے سے 30 بور پستول، لوڈ میگزین اور پانچ گولیاں برآمد ہوئیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران ملزم نے وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ پریس ریلیز کے مطابق، ملزم نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے تنظیمی کمانڈر کی ہدایت پر کراچی آیا تھا، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کی نگرانی اور انہیں نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔

حکام نے بتایا کہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس کے مبینہ ساتھیوں، سہولت کاروں اور مالی معاونین کی شناخت کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔

سی ٹی ڈی میں تین مقدمات درج

پریس ریلیز کے مطابق، گرفتار ملزمان کے خلاف سی ٹی ڈی تھانے کراچی میں تین مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

مقدمہ نمبر 107/2026 اور 108/2026 دھماکا خیز مواد سے متعلق قانون کی دفعات 4 اور 5، انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 کے ساتھ درج کیے گئے ہیں۔ مقدمہ نمبر 109/2026 سندھ آرمز ایکٹ 2013 کی دفعہ 23(1)(A) کے تحت درج کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق، مقدمات کی تفتیش جاری ہے اور ممکنہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث دیگر افراد تک پہنچنے کے لیے مزید قانونی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

کارروائی میں حصہ لینے والے اہلکاروں کے لیے انعامات

سی ٹی ڈی کی پریس ریلیز کے مطابق، مشترکہ کارروائیوں میں حصہ لینے والی ٹیموں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اعلیٰ حکام نے متعلقہ اہلکاروں کے لیے تعریفی اسناد اور نقد انعامات دینے کا اعلان کیا ہے۔

گرفتار ملزمان کے خلاف عائد الزامات اور ابتدائی تفتیش میں سامنے آنے والے دعووں کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!