سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے عوامی شکایات کی سماعتیں شروع کر دی ہیں۔ یہ کارروائی سمارٹ کمپلینٹ ریڈریسل میکانزم (SCRM) کے تحت ہو رہی ہے۔
اس اقدام کا مقصد غیر قانونی تعمیرات اور بلڈرز کے خلاف شکایات کا فوری ازالہ ہے۔ سماعتیں سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات کے مطابق کی جا رہی ہیں۔
فریقین کو مؤقف پیش کرنے کا موقع
ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (آپریشنز) انجینئر فرحان قیصر سماعتوں کی صدارت کر رہے ہیں۔ ان میں زیر التوا شکایات اور قانونی معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
شکایت کنندگان، بلڈرز اور مالکان کو بالمشافہ سنا جا رہا ہے۔ تمام فریقین اپنے ثبوت اور دستاویزات بھی پیش کر سکتے ہیں۔
قانونی اور شفاف احکامات کا اجرا
ایس بی سی اے کے مطابق ریکارڈ کی جانچ کے بعد فیصلے جاری کیے جا رہے ہیں۔ مجاز اتھارٹی دونوں فریقین کا مؤقف سن کر قانون کے مطابق تحریری احکامات دیتی ہے۔
ان احکامات میں فیصلے کی وجوہات واضح کی جاتی ہیں۔ قانونی اصطلاح میں انہیں Speaking Orders کہا جاتا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کی ہدایات پر عملدرآمد
پریس ریلیز کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے متعدد فیصلوں میں سمارٹ کمپلینٹ سسٹم کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سی پی نمبر D-3279/2021 بھی شامل ہے۔
اتھارٹی کے مطابق عدالت نے اس نظام کو عوامی شکایات کے ازالے کے لیے متبادل فورم قرار دیا ہے۔
ایس بی سی اے سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979 کے تحت کارروائی کر رہی ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ شکایات کا بلا تاخیر اور بلا امتیاز ازالہ کیا جائے گا۔
عدالتی رپورٹس بروقت جمع کرانے کا ہدف
سماعتوں کا مقصد شہریوں کی شکایات پر فوری کارروائی کرنا ہے۔ اس عمل کے ذریعے قانونی فیصلوں کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔
ایس بی سی اے سندھ ہائی کورٹ میں تعمیلی رپورٹس بروقت جمع کرانے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔
