وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ مزدوروں کی فلاح و بہبود، صحت اور تعلیم حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ان کے مطابق مزدوروں کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے یہ بات سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کی 177ویں گورننگ باڈی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے خاندانوں کی مالی مدد اور مزدوروں کو طبی سہولتوں کی فراہمی سمیت مختلف امور پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری محنت سندھ ساجد جمال ابڑو، کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو، گورننگ باڈی کے ارکان اور دیگر افسران نے شرکت کی۔
ایچ آئی وی متاثرہ بچوں کے خاندانوں کے لیے امداد جاری رکھنے کا فیصلہ
گورننگ باڈی نے ایچ آئی وی سے متاثرہ بچوں کے اہل خانہ کو مالی امداد جاری رکھنے کی منظوری دی۔ امدادی رقم کم از کم 40 ہزار اور زیادہ سے زیادہ 80 ہزار روپے مقرر ہے۔
اجلاس میں اینڈومنٹ فنڈ کے لیے بورڈ جلد تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ بورڈ کی سربراہی کے لیے مشتاق چھاپڑا یا کسی مستند شخصیت کا نام تجویز کیا گیا۔
مجوزہ بورڈ میں سیکرٹری محنت، کمشنر سیسی، میڈیکل ایڈوائزر اور ڈائریکٹر اکاؤنٹس سیسی شامل ہوں گے۔ ڈاکٹر فیصل محمود، ڈاکٹر مسعود حمید، ڈاکٹر باری، اسد سعید اور عمار احمد خان کے نام بھی تجویز کیے گئے۔ گورننگ باڈی کے دو ارکان بھی بورڈ کا حصہ ہوں گے۔
گورننگ باڈی نے بورڈ کی تشکیل سے متعلق تجویز منظور کرلی۔ بورڈ اینڈومنٹ فنڈ کے قواعد، شرائط اور پالیسی تیار کرے گا۔
پنشن پالیسی مضبوط بنانے کی ہدایت
اجلاس میں پنشن پالیسی کو مستحکم بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ سعید غنی نے قانونی تقاضوں کے مطابق طریقہ کار تیار کرنے کی ہدایت کی۔
فیصلہ کیا گیا کہ مستند قانون دانوں سے مشاورت کے بعد تجاویز مرتب کی جائیں گی۔ یہ تجاویز آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔
گورننگ باڈی نے سیسی کے مختلف ڈائریکٹوریٹس میں اضافے کے بعد کنٹری بیوشن اور دیگر فوائد سے متعلق رپورٹ بھی طلب کی۔ متعلقہ افسران کو آئندہ اجلاس میں مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
ایجوکیشن سیس سے متعلق تجویز مسترد
اجلاس میں ایجوکیشن سیس کی وصولی سیسی سے ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ سعید غنی نے یہ تجویز مسترد کردی۔
انہوں نے معاملے پر ورکرز ویلفیئر بورڈ سے مشاورت کی ہدایت کی۔ متعلقہ حکام آئندہ اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کریں گے۔
اسپتالوں کے بلوں کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم
مزدوروں کے علاج سے متعلق مختلف اسپتالوں کے بلوں کی ادائیگی کے معاملے پر تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی کی سربراہی کمشنر سیسی کریں گے۔
کمیٹی میں آجروں کے نمائندے خلیل احمد بلوچ اور مزدوروں کے نمائندے عبدالواحد شورو شامل ہوں گے۔ کمیٹی ہر کیس کا الگ جائزہ لے گی اور ادائیگیوں سے متعلق سفارشات مرتب کرے گی۔
اجلاس میں کلثوم بائی ولیکا اسپتال اور ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر بھی غور کیا گیا۔ متعلقہ کمیٹی کو معاہدے کی تمام شرائط کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔
خالی آسامیوں اور سروس رولز پر پیش رفت
سیسی میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا معاملہ ری آرگنائزنگ کمیٹی سے مشاورت کے لیے بھیج دیا گیا۔ سیسی سروس رولز 2026 برائے ایڈمنسٹریشن اینڈ میڈیکل کیڈرز کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔
گورننگ باڈی نے سیسی کے آئی ٹی کنسلٹنٹ کے طور پر جاوید احمد کی تعیناتی کی منظوری بھی دی۔
اجلاس میں صوبے بھر میں سیسی کے زیر انتظام ترقیاتی، دیکھ بھال اور بحالی کے کاموں کے لیے کنسلٹنٹ کی تعیناتی کا عمل کھولنے کی منظوری دی گئی۔ مرحوم ملازمین کے سن کوٹہ سے متعلق 30 کیسز ری آرگنائزنگ کمیٹی کے سپرد کردیے گئے۔
اجلاس کے بعض دیگر ایجنڈے ورکنگ پیپرز مکمل نہ ہونے یا دیگر وجوہات کی بنا پر مؤخر کردیے گئے۔