اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ریاستی ملکیتی اداروں کی 2023 کی پالیسی میں اہم ترمیم کردی۔
وزارت خزانہ نے ترمیم شدہ پالیسی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
ترمیم کے تحت ریاستی ملکیتی اداروں کی مالی رپورٹنگ کو انٹرنیشنل فنانشل رپورٹنگ اسٹینڈرڈز (IFRS) سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔
اندرونی آڈٹ لازمی
ترمیم شدہ پالیسی کے تحت تمام سرکاری ملکیتی اداروں کو اندرونی آڈٹ کے طریقہ کار اور نظام قائم کرنا ہوگا۔
وزارت خزانہ کے مطابق مالی انتظام کے لیے تفصیلی فریم ورک بھی تیار کیا جائے گا۔ یہ فریم ورک فنانس ڈویژن، آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی مشاورت سے تیار کرے گا۔
ایس ای سی پی کے مالیاتی معیارات لاگو ہوں گے
نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری ملکیتی اداروں کے لیے IFRS سے مراد سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ مالیاتی رپورٹنگ کے معیارات ہوں گے۔
عام کمپنیوں کے لیے ایس ای سی پی کی جانب سے دی گئی متعلقہ رعایتیں سرکاری ملکیتی اداروں پر بھی لاگو ہوں گی۔
بینکنگ شعبے سے متعلق سرکاری اداروں پر اسٹیٹ بینک کے متعلقہ قواعد برقرار رہیں گے۔
مالی نظم و نسق اور شفافیت پر توجہ
وزارت خزانہ کے مطابق پالیسی میں ترمیم کا مقصد سرکاری ملکیتی اداروں کی مالی رپورٹنگ، نگرانی اور احتساب کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔
یہ اقدام سرکاری اداروں میں مالی شفافیت اور عالمی معیار کے مطابق رپورٹنگ کے لیے کیا گیا ہے۔