وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید کیپٹن حمزہ اکرم کی رہائش گاہ پر پہنچ کر ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔
وزیر داخلہ نے شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے والد اور بھائی سے تعزیت کی۔ انہوں نے شہید کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔
محسن نقوی نے شہید کے والد کے بلند حوصلے اور جذبے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن حمزہ اکرم کی جرأت قوم کے لیے مثال ہے۔
شہید کے والد کا عزم
شہید کیپٹن حمزہ اکرم کے والد نے کہا کہ ان کا بیٹا پاکستان پر قربان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا دوسرا بیٹا بھی پاکستان کے لیے حاضر ہے۔
والد کے مطابق شہید حمزہ نے خاندان کا سر فخر سے بلند کردیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان نہیں تو کچھ نہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ ایسے عظیم والد کے حوصلے پر پوری قوم کو ناز ہے۔
ہنگو آپریشن میں کیپٹن حمزہ کی شہادت
آئی ایس پی آر کے مطابق 7 اگست 2026 کو ہنگو میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا گیا تھا۔ کارروائی کے دوران 7 خوارج ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن حمزہ اکرم 27 سال کے تھے۔ وہ ناروال سے تعلق رکھتے تھے اور آپریشن کے دوران اپنے دستوں کی قیادت کر رہے تھے۔
فائرنگ کے شدید تبادلے میں کیپٹن حمزہ اکرم شہید ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز نے ہلاک خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ کیپٹن حمزہ اکرم نے 7 خوارج کا مقابلہ کرتے ہوئے بہادری کی مثال قائم کی۔
انہوں نے کہا کہ ہر شہید کے خون کا ایک ایک قطرہ وطن کے تحفظ کی ضمانت ہے۔ قوم کیپٹن حمزہ اکرم اور ان کے خاندان کی قربانیوں کا قرض ادا نہیں کرسکتی۔
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ شہید کیپٹن حمزہ اکرم قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔