کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں ساڑھے آٹھ ارب روپے کی مبینہ کرپشن کے کیس میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
جسٹس میراں محمد شاہ نے درخواست ضمانت پر فیصلہ سناتے ہوئے ضمیر عباسی کو ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے مچلکے جمع ہونے کے بعد انہیں جیل سے رہا کرنے کی ہدایت بھی کی۔
عدالت نے ضمیر عباسی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے آبزرویشن دی کہ ملزم پر رقم میں خورد برد کے الزامات ہیں، اس لیے کیس میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔
سرجانی قتل: ماں اور تین بچوں کے قتل کی تحقیقات جاری
اس سے قبل صوبائی اینٹی کرپشن عدالت نے ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی۔
اینٹی کرپشن حکام کے مطابق سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر پر یلو لائن منصوبے میں ایڈوانس ادائیگیوں کے ذریعے قومی خزانے کو مبینہ طور پر ساڑھے آٹھ ارب روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔
تاہم یہ الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں اور کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں