پاکستان ٹیسٹ ٹیم کو برطانوی میڈیا نے گزشتہ 50 برس کی کمزور ترین پاکستانی ٹیم قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں موجودہ اسکواڈ کی بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ پر سخت سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
برطانوی میڈیا کے مطابق انگلینڈ کے خلاف پاکستان کی آخری 8 وکٹیں صرف 74 رنز پر گریں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ماضی کے عظیم پاکستانی بیٹرز کے مقابلے میں موجودہ بیٹنگ کا معیار نمایاں طور پر کمزور دکھائی دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستانی فاسٹ بولرز رفتار اور معیار دونوں میں ماضی کے مقابلے میں پیچھے نظر آئے۔ ہیڈنگلے کی خشک پچ بھی پاکستانی بولرز کو انگلش بیٹرز پر دباؤ ڈالنے میں مدد نہ دے سکی۔
فیلڈنگ بھی تنقید کی زد میں
برطانوی میڈیا نے پاکستانی ٹیم کی فیلڈنگ کو بھی مایوس کن قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق متعدد مس فیلڈز اور ڈراپ کیچز نے انگلینڈ کے بیٹرز کو آسان رنز بنانے کا موقع دیا۔
جو روٹ، ہیری بروک اور ڈین لارنس نے پاکستانی فیلڈنگ کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا۔ اس کے نتیجے میں انگلینڈ نے میچ میں اپنی پوزیشن مضبوط کی۔
رپورٹ میں تاہم محمد رضوان کی وکٹ کیپنگ اور پاکستانی اسپنرز کی کارکردگی کو امید کی کرن قرار دیا گیا۔ برطانوی میڈیا کے مطابق یہ کھلاڑی پاکستان کی جارحانہ کرکٹ کی جھلک دوبارہ دکھا سکتے ہیں۔