سندھ میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے مطالبے پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے۔ صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے ایم کیو ایم کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی مایوسی قرار دیا۔
ناصر حسین شاہ کی ایم کیو ایم پر تنقید
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ خالد مقبول صدیقی کی پریس کانفرنس سے ان کی سیاسی فرسٹریشن ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ خالد مقبول صدیقی کے ذہنی دباؤ کا علاج وفاقی وزیر صحت کے پاس ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ ایم کیو ایم کی موجودہ قیادت کراچی کے عوام کی منتخب کردہ نہیں۔ ان کے مطابق یہ قیادت حقیقی سیاسی نمائندگی بھی نہیں رکھتی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایم کیو ایم سندھ کی تقسیم کی بات کرکے کراچی کے امن، تجارت اور خوشحالی کو متاثر کرنا چاہتی ہے۔ ناصر حسین شاہ کے مطابق کراچی کے شہری ایم کیو ایم کے ماضی اور سیاست سے واقف ہیں۔
سندھ کی تقسیم پر پیپلز پارٹی کا مؤقف
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ کے عوام ایسی کوشش قبول نہیں کریں گے جس سے صوبے کے امن اور اتحاد کو نقصان پہنچے۔ ان کے مطابق سندھ کی تقسیم کی باتیں عوامی مسائل کا حل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری امن، ترقی، روزگار، کاروبار اور بنیادی سہولیات چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق شہر کے عوام نفرت اور تقسیم کی سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
ناصر حسین شاہ نے فاروق ستار کو موجودہ ایم کیو ایم کا ’’بارہواں کھلاڑی‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ تقسیم نہیں ہوگا، تاہم ایم کیو ایم خود تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے۔
کراچی کے عوام سے متعلق ناصر شاہ کا دعویٰ
صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی کے عوام پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔ ان کے مطابق شہری امن، بھائی چارے اور ترقی کے سفر کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کراچی کی ترقی نفرت، لسانیت اور تقسیم کی سیاست سے ممکن نہیں۔ ان کے مطابق شہر کو سیاسی استحکام اور بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ایم کیو ایم کی قیادت پر زور دیا کہ سیاسی کشیدگی بڑھانے کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر توجہ دے۔ ان کے مطابق سندھ ایک وحدت ہے اور اسے تقسیم کرنے کی کوئی کوشش عوام کی خواہشات کے خلاف ہوگی۔
سندھ میں نئے صوبوں کے معاملے پر حالیہ دنوں میں سیاسی اختلافات نمایاں ہوئے ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان نئے انتظامی یونٹس کی حامی ہے، جبکہ سندھ حکومت اس مطالبے کی مخالفت کر رہی ہے۔