کراچی واقعہ کی اعلیٰ سطحی انکوائری رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی فدا حسین جانوری کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں ایس ایس پی کی ساس، سالی اور سالے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ موقع پر موجود چار پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی کارروائی کی تجویز دی گئی ہے۔
انکوائری کا پس منظر
یہ واقعہ 21 اگست کو ڈیفنس فیز 6 میں پیش آیا تھا۔ چھوٹا بخاری کمرشل ایریا کے ایک اپارٹمنٹ میں بہن بھائی پر تشدد ہوا۔
واقعے کی ویڈیو 28 اگست کو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس کے بعد ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے واقعے کا نوٹس لیا۔
انہوں نے ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کو انکوائری افسر مقرر کیا تھا۔ ڈی آئی جی ساؤتھ نے تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ اعلیٰ حکام کو بھیج دی۔
پولیس افسران کے خلاف سفارشات
پولیس ذرائع کے مطابق رپورٹ میں ایس ایس پی کورنگی کو انتظامی غفلت کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
انکوائری رپورٹ میں سابق ایس ایچ او درخشاں راشد علی کے خلاف بھی کارروائی کی سفارش کی گئی۔ ایس آئی یو درخشاں کے موبائل افسر آفتاب منگی بھی سفارشات میں شامل ہیں۔
رپورٹ میں دونوں افسران کی معطلی کی سفارش کی گئی ہے۔ دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی تجویز کی گئی ہے۔
متاثرہ بہن بھائی کے مقدمے سے متعلق سفارش
انکوائری رپورٹ میں متاثرہ بہن بھائی علی احسن اور نورالعین کے خلاف درج مقدمہ ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں متاثرہ بہن بھائی کی مدعیت میں نیا مقدمہ درج کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی۔ متعلقہ حکام حتمی فیصلے کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف اقدامات کریں گے۔