فری شٹل سندھ حکومت کا کریک ڈاؤن، صدر میں 10 سے زائد غیر قانونی اڈے سیل

فری شٹل سروس کے مبینہ غیر قانونی استعمال کے خلاف سندھ حکومت نے کراچی میں کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کی ہدایت پر پاکستان ٹرانسپورٹ اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کارروائی کی۔ ٹریفک پولیس اور مقامی پولیس نے بھی آپریشن میں حصہ لیا۔

صدر میں کارروائی

حکام نے صدر کے علاقوں الکرم اور الاصف اسکوائر میں آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران 10 سے زائد غیر قانونی اڈے سیل کر دیے گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اڈوں پر سرکاری شٹل سروس کا مبینہ ناجائز استعمال ہو رہا تھا۔

سیکرٹری پی ٹی اے کا مؤقف

کارروائی کی نگرانی سیکرٹری پی ٹی اے امیت کمار نے کی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت سرکاری شٹل سروس کا غیر قانونی استعمال ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہوگی۔ ضرورت پڑنے پر مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔

مفت شٹل سروس دوبارہ بحال

امیت کمار نے بتایا کہ سندھ حکومت دوبارہ فری شٹل سروس شروع کر رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت 50 سے زائد شٹل بسیں مختلف علاقوں سے کراچی بس ٹرمینل تک مسافروں کو مفت سفر کی سہولت دیں گی۔

جدید ٹریکر سسٹم نصب ہوگا

انہوں نے کہا کہ تمام شٹل بسوں میں جدید ٹریکر سسٹم نصب کیا جائے گا۔ اس سے ہر گاڑی کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جائے گی۔

اگر کسی نے گاڑی کو غیر قانونی مقصد کے لیے استعمال کیا تو اس کے خلاف فوری کارروائی ہوگی۔

کریک ڈاؤن کی وجہ

حکام کے مطابق سندھ حکومت نے 2024 میں شہر کے تمام انٹرسٹی بس اڈے کراچی بس ٹرمینل منتقل کیے تھے۔ اس کے بعد مسافروں کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی گئی تھی۔

حالیہ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض ٹرانسپورٹرز سرکاری شٹل بسوں کو کراچی، حیدرآباد اور دیگر روٹس پر غیر قانونی طور پر استعمال کر رہے تھے۔ ان شکایات کے بعد صوبائی وزیر نے فوری کریک ڈاؤن کا حکم دیا۔

مزید علاقوں تک توسیع

حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں صدر سے فری شٹل سروس بحال کی جا رہی ہے۔ اگلے مرحلے میں الکرم اسکوائر اور دیگر علاقوں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد مسافروں کو محفوظ، منظم اور مفت سفری سہولت فراہم کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!