پی ٹی اے کے چیئرمین نے انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں ٹیلی کام کمپنیوں کی تقریباً 9 ہزار سائٹس پر چوری کی وارداتیں ہو چکی ہیں، جس کے باعث بعض علاقوں میں سروسز متاثر ہوئیں۔
چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ حکومت صارفین کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتی ہے۔ اگر کسی شہری نے موبائل یا انٹرنیٹ پیکج خریدا ہو اور سروس بند رہنے کے باعث اسے استعمال نہ کر سکے تو متعلقہ کمپنی کو صارف کی رقم واپس کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ناقص سروس کے معاملے پر پی ٹی اے نے مختلف ٹیلی کام کمپنیوں پر مجموعی طور پر 4 ارب روپے کے جرمانے عائد کیے ہیں تاکہ خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
چیئرمین پی ٹی اے نے واضح کیا کہ موبائل فون پر ٹیکس عائد کرنے میں ادارے کا کوئی کردار نہیں۔ ان کے مطابق موبائل فونز پر ٹیکس اور ڈیوٹیز کا تعین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے کا بنیادی مقصد ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کے معیار کو بہتر بنانا اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔