لاہور: چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے کہا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں کامیابی کے لیے جدید صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ افرادی قوت کی تیاری اور اس کا تسلسل ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ روایتی جنگی حکمتِ عملی کو موجودہ دور کے پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز کے مطابق ڈھالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایڈمرل نوید اشرف نے پاکستان نیوی وار کالج لاہور کے دورے کے دوران 55ویں پاکستان نیوی اسٹاف کورس کے شرکاء سے خطاب کیا۔ انہوں نے جدید جنگی ماحول کی بدلتی ہوئی نوعیت، بحری سلامتی کو درپیش ابھرتے خطرات اور دفاعی شعبے میں نئی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
نیول چیف نے کہا کہ روایتی اور غیر روایتی خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے عسکری حکمتِ عملی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان نیوی کے جدت، دفاعی پیداوار میں خود انحصاری اور مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت میں اضافے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
بحرِ ہند کے خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خطہ مسلسل تبدیلی، مسابقت اور نئی جغرافیائی و سیاسی صف بندیوں سے گزر رہا ہے، جس کے اثرات علاقائی بحری سلامتی پر مرتب ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق طاقت کے حصول کی بڑھتی کشمکش اور تزویراتی تبدیلیاں خطے کے سیکیورٹی ماحول کو متاثر کر رہی ہیں۔
ایڈمرل نوید اشرف نے کہا کہ جدید جنگی تصورات میں کثیرالجہتی آپریشنز بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان نیوی کے مختلف ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبے پاکستان نیوی کو ایک مضبوط علاقائی بحری قوت بنانے کے وژن کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔
خطاب کے اختتام پر نیول چیف نے اسٹاف کورس مکمل کرنے والے افسران کو مبارکباد دی اور انہیں آئندہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں باریک بینی، تجزیاتی و تخلیقی سوچ اور اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھنے کی تلقین کی۔

