سینٹ پیٹرزبرگ: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ پاکستان کو مکمل طور پر چین کے اثر و رسوخ میں ہونے والا ملک قرار دینا درست نہیں۔ انہوں نے پاکستان کو ایک اہم اور خودمختار ملک قرار دیا جس کے مختلف ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات ہیں۔
بھارتی صحافی کے سوال پر وضاحت
سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم کے دوران ایک بھارتی صحافی نے پاکستان اور چین کے تعلقات کے حوالے سے سوال کیا۔ اس پر صدر پیوٹن نے کہا کہ پاکستان کو صرف چین کے تناظر میں دیکھنا درست تجزیہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بڑا ملک ہے۔ اس کے دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات موجود ہیں۔
روس اور چین کے تعلقات پر اظہار خیال
روسی صدر نے کہا کہ روس اور چین کے درمیان دفاعی اور فوجی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ یہ تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔
ان کے مطابق ماسکو اور بیجنگ کے تعلقات باہمی مفادات اور اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایران کے حوالے سے مؤقف
ایک سوال کے جواب میں ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان اعتماد پر مبنی تعلقات موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ روس خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور مسائل کے حل کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یوکرین جنگ اور مذاکرات
صدر پیوٹن نے یوکرین جنگ پر بھی بات کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج نے حالیہ عرصے میں یوکرین کے تقریباً 2,440 مربع کلومیٹر علاقے پر کنٹرول حاصل کیا ہے۔
تاہم انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ روس تنازع کے پرامن حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کے لیے اہم سفارتی اشارہ
مبصرین کے مطابق صدر پیوٹن کا بیان پاکستان کے حوالے سے ایک اہم سفارتی اشارہ ہے۔ اس بیان میں پاکستان کی خودمختار خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر اس کے متوازن تعلقات کو تسلیم کیا گیا ہے۔