کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری اور سیکریٹریز نے شرکت کی۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ عبدالرشید چنا کے مطابق اجلاس میں 25 نکاتی ایجنڈے پر تفصیلی غور کیا گیا اور صوبے بھر میں ترقیاتی منصوبوں، انفراسٹرکچر اور عوامی سہولیات کے لیے اربوں روپے کی منظوری دی گئی۔
کابینہ نے حیدرآباد-کوٹڑی کے درمیان دریائے سندھ پر نئے پل کے ڈیزائن کی منظوری دیتے ہوئے اس کے لیے 147.2 ملین روپے مختص کیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ نیا پل اندرون ملک ٹریفک کی روانی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
کراچی میں سڑکوں کی بحالی کے لیے 6.5 ارب روپے کی منظوری دی گئی، جبکہ کے ایم سی کو 24 ٹاؤنز میں روڈ انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے فوری فنڈز جاری کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
کابینہ نے کراچی کے اہم ایس تھری منصوبے کے لیے 2 ارب روپے منظور کیے، جس کے تحت ہارون آباد میں ایس ٹی پی ون کے پہلے مرحلے کی تکمیل ممکن ہوگی۔ اسی طرح لاڑکانہ میں نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے 4 ارب روپے کی منظوری دی گئی۔
عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے 48.9 ملین روپے مختص کیے گئے، جبکہ مورو میں چار نئی عدالتوں کی تعمیر کے لیے 432.597 ملین روپے منظور کیے گئے۔
سکھر میں غلام محمد میڈیکل کالج اسپتال میں 50 بستروں پر مشتمل ٹراما سینٹر کے لیے 635.48 ملین روپے منظور کیے گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ سکھر ٹراما سینٹر جون 2026 تک فعال بنایا جائے۔
عمرکوٹ میں یتیم خانے کے قیام کے لیے 80 ملین روپے، کراچی کے سینٹ پیٹرک ہائی اسکول میں ای سی سی ای بلاک کے لیے 90 ملین روپے اور سندھ جاب پورٹل کے لیے 86.535 ملین روپے کی منظوری بھی دی گئی۔
کابینہ نے اے آئی کے فروغ کے لیے “انڈس اے آئی ویک 2026” کے انعقاد کی منظوری دی، جبکہ سیہون ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے لیے 615.7 ملین روپے کی منظوری تنظیم نو سے مشروط کر دی گئی۔ اس کے تحت نئی بھرتیوں پر پابندی اور 421 ملازمین کو سرپلس پول میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
مزید برآں قاسم آباد میں پانی کی پائپ لائن، انڈر پاس منصوبے، لطیف آباد اسپورٹس کمپلیکس اور شیخ ایاز روڈ کی توسیع سمیت متعدد ترقیاتی منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس میں کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور انفراسٹرکچر کی بہتری ہے۔
